ابوظبی:دبئی میں منعقدہ ورلڈ گورنمنٹس سمٹ میں سعودی عرب کے ایک معلم منصور بن عبداللہ المنصور کو بہترین استاد کے اعزاز سے نوازا گیا۔ اس ایوارڈ کے ساتھ ملنے والی 10 لاکھ ڈالر کی رقم کو انہوں نے یتیم اور غریب بچوں کے لیے ایک اسکول تعمیر کرنے کے لیے وقف کر دیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق منصور بن عبداللہ المنصور سعودی عرب کے معروف تعلیمی ادارے پرنس سعود بن جلاوی اسکول میں بطور استاد خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران نہ صرف طلبہ کو تعلیم دی، بلکہ معذور، یتیم اور یہاں تک کہ قیدیوں تک علم کی روشنی پہنچانے کے لیے رضاکارانہ خدمات بھی انجام دیں۔ ان کی انتھک محنت اور لگن نے ہزاروں بچوں کی زندگیوں کو بدل دیا ہے۔

منصور بن عبداللہ نے طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے مختلف تربیتی پروگرامز ترتیب دیے، جن کے ذریعے ان کے طلبہ نے عالمی سطح پر کئی ایوارڈز جیتے۔ انہوں نے تعلیم کے شعبے میں اپنے تجربات کو 21 کتابوں کی شکل میں بھی دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اساتذہ کی تربیت کے لیے سیکڑوں کورسز بھی منعقد کیے ہیں۔

ورلڈ گورنمنٹس سمٹ میں دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشد آل مکتوم نے منصور بن عبداللہ کو بہترین استاد کا ایوارڈ دیتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہا۔ یہ ایوارڈ جیمز ایجوکیشن کی جانب سے تعلیم کے شعبے میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔

اس سال دنیا بھر سے 5,000 سے زائد امیدواروں نے اس ایوارڈ کے لیے درخواستیں جمع کرائی تھیں لیکن منصور بن عبداللہ کی خدمات نے انہیں اس اعزاز کا مستحق بنایا۔

ایوارڈ کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے منصور بن عبداللہ نے کہا کہ ہر بچے کو اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ تعلیم کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ہمیشہ سرگرم رہیں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ایوارڈ کی ملنے والی 10 لاکھ ڈالر کی رقم کو وہ یتیم اور غریب بچوں کے لیے ایک اسکول تعمیر کرنے پر خرچ کریں گے۔

منصور بن عبداللہ کی یہ کامیابی نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے سعودی عرب کے لیے فخر کا باعث ہے۔ ان کی خدمات نے نہ صرف طلبہ کی زندگیوں کو بدلا ہے، بلکہ انہوں نے تعلیم کے شعبے میں ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ ان کا یہ اقدام یتیم اور غریب بچوں کو تعلیم کی روشنی سے منور کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

ماہرین کے مطابق منصور بن عبداللہ جیسے اساتذہ کی کوششیں معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ان کی خدمات سے نہ صرف طلبہ کو فائدہ پہنچتا ہے، بلکہ یہ معاشرے کے پسماندہ طبقات کو بھی بااختیار بناتے ہیں۔

منصور بن عبداللہ کی کامیابی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ تعلیم ہی وہ طاقت ہے جو معاشرے کو بدل سکتی ہے۔ ان کی کوششیں نہ صرف سعودی عرب بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مثال ہیں کہ کیسے ایک فرد اپنی محنت اور لگن سے ہزاروں زندگیوں کو بدل سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: منصور بن عبداللہ کی خدمات انہوں نے یتیم اور کے لیے

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا