پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے نسیم البحر 15 جنگی مشقوں کو پاکستان اور سعودی عرب کی بحری افواج کے درمیان گہرے تعلقات کا عکاس قرار دیا ہے۔

میں نے رائل سعودی نیول فورسز کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل محمد الغریبی، اور پاک بحریہ کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل نوید اشرف کے ساتھ “نسيم_البحر 15” مشقوں میں شرکت کی، یہ مشقیں جو 3 دہائیوں سے زائد عرصے تک جاری رہیں، دونوں بحری افواج کے درمیان گہرے تعلقات کی عکاسی ہے۔ pic.

twitter.com/Y22PPS3018

— نواف بن سعيد المالكي (@AmbassadorNawaf) February 16, 2025

اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنی ایک پوسٹ میں پاکستان کے لیے سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے لکھا کہ ’ میں نے رائل سعودی نیول فورسز کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل محمد الغریبی اور پاک بحریہ کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل نوید اشرف کے ساتھ ’نسيم البحر15‘ مشقوں میں شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ شیلڈ 2024 مشق اختتام پذیر، سعودی عرب کی بانافیا ٹورناڈو طیاروں کے ساتھ شرکت

انہوں نے لکھا کہ یہ مشقیں جو 3 دہائیوں سے زیادہ عرصے تک جاری رہیں، دونوں بحری افواج کے درمیان گہرے تعلقات کی عکاسی ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان میں سندھ شیلڈ 2024 مشترکہ فضائی مشقیں 27 اکتوبر 2024 کو ختم ہوئی تھیں جن میں سعودی عرب، مصر، ترکی اور پاکستان سمیت مختلف ممالک کی فضائی افواج نے بھرپور حصہ لیا تھا۔

مزید پڑھیں: مشترکہ پاک سعودی فوجی مشقیں ’البتار۔ون‘ اختتام پذیر

اس سے قبل 4 ستمبر 2023 کو بھی  پاکستان اور سعودی عرب کی انسداد دہشت گردی سے متعلق مشترکہ تربیتی مشقیں ’البتارون‘اختتام پذیر ہوئی تھیں، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق چیراٹ میں منعقدہ اختتامی تقریب میں سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی اور اعلیٰ عسکری حکام نے شرکت کی اور مشقوں کے آخری دن کی مختلف سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئی ایس پی آر انسداد دہشتگردی بحریہ پاکستان ترکی جنگی مشقیں سعودی عرب سمندری حدود مشقیں مصر

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر انسداد دہشتگردی بحریہ پاکستان ترکی جنگی مشقیں سعودی عرب کی نواف بن

پڑھیں:

علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق

ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم