اوپیک پلس تیل کی فراہمی میں اضافے کو مؤخر کرنے پر غور نہیں کر رہا، روسی نائب وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2025 GMT
ماسکو: روس کے نائب وزیراعظم ایلکسی نوواک نے تصدیق کرتے ہوئے کہاہے کہ اوپیک پلس ممالک اپریل میں شروع ہونے والے تیل کی ماہانہ فراہمی میں اضافے کو مؤخر کرنے پر غور نہیں کر رہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپیلوں کے باوجود اوپیک پلس ممالک کی ملاقات میں تیل کی قیمتوں کو کم کرنے کی فراہمی میں اضافے کو روکنے پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
تین اوپیک پلس ممالک کے نمائندوں نے عالمی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ابھی تک اس موضوع پر کوئی باضابطہ بات چیت نہیں ہوئی، اور اضافی فراہمی کو اپریل سے جذب کرنے کی صلاحیت پر غور کیا جا رہا ہے سخت پابندیاں اور چین کی بڑھتی ہوئی تیل کی طلب کو اس فیصلے میں اہم عوامل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے لیکن اس پر کوئی حتمی رائے نہیں دی جا سکتی۔
عالمی تجزیہ کار مورگن اسٹینلے کا کہنا ہے کہ اوپیک پلس ممالک اپنے موجودہ پیداواری سطح کو مزید بڑھانے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
اوپیک پلس ممالک نے 2022 سے عالمی تیل کی سپلائی میں 5.
اوپیک پلس ممالک کی پلاننگ کے مطابق 2.2 ملین بیرل یومیہ کی کٹوتی کو اپریل سے ختم کرنے کے بعد ماہانہ 138,000 بیرل یومیہ کی فراہمی بڑھائی جائے گی اس اضافے کا عمل ستمبر 2026 تک جاری رہے گا اوپیک پلس ممالک کے نمائندوں کے مطابق اپریل میں اضافے پر حتمی فیصلہ مارچ کے آغاز میں کیا جائے گا۔
اوپیک پلس ممالک کے پیداوار میں اضافے یا کٹوتیوں کے حوالے سے حتمی فیصلہ مارکیٹ کی صورتحال اور عالمی تیل کی طلب پر منحصر ہوگا۔ اوپیک پلس ممالک کی پالیسی پر امریکہ، چین اور دیگر عالمی طاقتوں کے اثرات کو بھی دیکھا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کی فراہمی میں اضافے تیل کی
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں