ہانیہ عامر اور دلجیت دوسانجھ ایک ساتھ فلم میں؟مداحوں کیلئے اہم خبر آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2025 GMT
مقبول اداکارہ ہانیہ عامر اور بھارتی پنجابی ریپر، گلوکار و اداکار دلجیت دوسانجھ کی جانب سے ایک ساتھ بھارتی پنجابی فلم میں کام کرنے کی افواہیں ہیں۔
بھارتی شوبز ویب سائٹ ’پنک ولا‘ کے مطابق حالیہ کچھ دنوں میں دونوں اداکاروں کو بیرون ملک ایک ساتھ دیکھا گیا جب کہ دونوں نےاپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی مبینہ طور پر ایک ہی لوکیشن سے تصاویر شیئر کیں۔
اگرچہ دونوں نے ایک ساتھ شوٹنگ کے دوران کھچوائی گئی تصاویر شیئر نہیں کیں، تاہم دونوں کا ملنا اور دونوں کی جانب سے ایک ہی لوکیشن کی تصاویر شیئر کیے جانے پر خیال کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر دونوں اداکار جلد ہی بھارتی فلم میں دکھائی دیں گے۔
’زوم انٹرٹینمنٹ‘ کے مطابق قیاس آرائیاں ہیں کہ دونوں ممکنہ طور ’سردار جی 3‘ میں ایک ساتھ دکھائی دیں گے۔
اگرچہ ’سردار جی 3‘ کی ٹیم سے منسلک افراد نے بھی ہانیہ عامر اور دلجیت دوسانجھ کے ساتھ کام کرنے کے حوالے سے کوئی خیال ظاہر نہیں کیا، تاہم اس باوجود سوشل میڈیا صارفین اور دونوں اداکاروں کے مداحوں کا خیال ہے کہ دونوں ایک ساتھ اسکرین پر کام کرتے دکھائی دیں گے۔
ہانیہ عامر اور دلجیت دوسانجھ کے ایک ساتھ کام کرنے کی افواہیں بھارتی اور پاکستانی شوبز میڈیا پر پھیل گئیں، تاہم اس باوجود دونوں اداکاروں نے اس حوالے سے کوئی وضاحت جاری نہیں کی۔
ماضی میں بھی دونوں اداکاروں کو ایک کنسرٹ میں ایک ساتھ دیکھا گیا تھا، جہاں دلجیت دوسانجھ نے کنسرٹ میں آنے پر ہانیہ عامر کو اسٹیج پر بلا لیا تھا۔
اب چہ مگوئیاں ہیں کہ دونوں بھارتی پنجابی فلم ’سردار جی تھری‘ میں ایک ساتھ دکھائی دیں گے لیکن اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔
خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ’سردار جی تھری‘ میں ہانیہ عامر ممکنہ طور پر مختصر کردار ادا کرتی دکھائی دیں گی۔
’سردار جی تھری‘ میں اداکارہ نیرو باجوہ بھی شامل ہوں گی اور ممکنہ طور فلم کو رواں برس کے وسط تک ریلیز کیے جانے کا امکان ہے۔
’سردار جی‘ سیریز کی پہلی دو فلمیں کامیاب ہوئی تھیں، سیریز کی پہلی فلم 2015 جب کہ دوسری 2016 میں ریلیز کی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: دونوں اداکاروں ہانیہ عامر اور دلجیت دوسانجھ کہ دونوں ایک ساتھ
پڑھیں:
بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن، ماہرِ تعلیم سونم وانگچک(Sonam Wangchuck) نے تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے نوجوان مظاہرین کی حمایت میں جاری 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی۔
وانگچک، جنہیں عوام میں “سونم سر” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے مختلف شرائط پر طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں ممکنہ تشدد سے بچنے کے لیے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
59 سالہ وانگچک کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین کی حمایت میں بھوک ہڑتال پر تھے، جو (NEET) کا پرچہ لیک ہونےکے بعد تعلیمی اصلاحات کے ساتھ ساتھ بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔
وانگچک نے ہڑتال کے دوران بتایا تھا کہ ان کا 11 کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے، تاہم وہ “اب بھی زندہ ہیں”۔ گزشتہ ہفتے انہیں دہلی میں احتجاجی مقام سے پولیس نے زبردستی ہٹا کر اسپتال منتقل کر دیا تھا۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026
بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق، حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ اس دوران بھارت کے وزرائے مملکت اور وزیر صحت نے بھی اسپتال میں ان سے ملاقات کی۔
وانگچک کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ ہمیں خوشی اور اطمینان ہے کہ سونم سر نے 26 دن بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا پُرامن احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے۔
مزیدپڑھیں:پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
واضح رہے کہ نئی دہلی میں بڑے پیمانے پر مظاہرے بدستور جاری ہیں۔ پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس کے سخت کریک ڈاؤن کے نتیجے میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اس وقت بھارت کی نمایاں نوجوان تحریکوں میں شمار کی جا رہی ہے اور اسے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف عوامی اختلاف کی بڑی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
یہ تحریک مئی میں اعلیٰ تعلیمی امتحانات کے پرچے لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف ایک طنزیہ آن لائن مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، جس نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر وسیع مقبولیت حاصل کی۔
مظاہرین، جو خود کو “کاکروچ” کہتے ہیں، گزشتہ ایک ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ بعض ارکان نے بھوک ہڑتال بھی کی۔
ان کا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر بننے کے خواہشمند طلبہ کے اہم داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد امتحان منسوخ ہونے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں۔