اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ اقتدار سے محرومی کے بعد پی ٹی آئی اپنے زخم چاٹ رہی ہے، عمران خان فوج کو پی ٹی آئی کا ذیلی ادارہ بنانا چاہتے ہیں۔ 

سرکاری ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ایک طرف بانی پی ٹی آئی عمران خان جیل میں بیٹھ کر خط لکھ رہے ہیں، پاؤں پکڑ رہے ہیں اور دوسری طرف انہوں نے کارروائیاں شروع کی ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر برطانیہ کے اہم دورے پر ہیں، آرمی چیف کے دورہ برطانیہ کے خلاف پی ٹی آئی تنقید اور غلط باتیں کررہی ہے، پاکستان کے برطانیہ کے ساتھ اہم سفارتی،عسکری اور معاشی تعلقات ہیں، دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعلقات مثالی ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا مکروہ چہرہ سامنے آگیا ہے، تحریک انصاف والوں کی سیاست صرف ایک شخص کے لیے ہے، انہیں ملک کی کوئی فکر نہیں، پی ٹی آئی کا رویہ ہر گز سیاسی نہیں ہے، یہ پروپیگنڈے کے ذریعے معیشت کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ 

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پاکستان کے عوام باشعور ہیں اور سب کچھ دیکھ رہے ہیں، ہم نے سیاسی انتقام کا سامنا کیا لیکن ملکی وقار کےخلاف کوئی بات نہیں کی، الحمد للہ ملک استحکام کی راہ پر گامزن ہے، پاکستان کی معیشت سنبھل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان فیض حمید کو آرمی چیف بنانا چاہتے تھے جس میں انہیں ناکامی ہوئی جس کے نتیجے میں یہ اکثریت کھو بیٹھے اور ان سے اقتدار چھن گیا، مذموم مقاصد کیلئے 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات رونماکیےگئے، قومی املاک پرحملے اور شہداکی یادگاروں کی بے حرمتی کے واقعات ایک حقیقت ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ انتشار کی سیاست ہمیشہ کے لیے دفن ہوجائے گی، دنیا میں کسی ملک میں سیاسی جماعتوں کا یہ وتیرہ نہیں ہے جو پی ٹی آئی نے اپنایا ہوا ہے، یہ کسی چیز کے ساتھ مخلص نہیں ہیں نہ ان کی کوئی کمٹمنٹ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وزیر دفاع نے کہا کہ پی ٹی آئی

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم