اسلام آباد: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے پی ٹی آئی وفد کا ملاقات کے بعد گروپ فوٹو

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اپوزیشن رہنماؤں کی چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی سے ملاقات میں پی ٹی آئی رہنماؤں نے پابند سلاسل پارٹی سربراہ عمران خان سے ملاقات نہ ہونے کا شکوہ کر دیا۔ چیف جسٹس سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب کا کہنا تھا گزشتہ جیل ٹرائل میں بانی پی ٹی آئی سے چیف جسٹس سے ملاقات کی اجازت لی، ملاقات میں چیف جسٹس کے سامنے بانی پی ٹی آئی کے کیسز پر بات ہوئی اور انہیں بتایا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے کیسز کی تاریخ تبدیل ہو جاتی ہے، عدالتی حکم کے باوجود ملاقات کا وقت تبدیل ہو جاتا ہے۔ عمر ایوب کا کہنا تھا چیف جسٹس پاکستان کو بتایا کہ وکلا کو بانی سے ملنے نہیں دیا جاتا، ملاقات میں بابر اعوان نے کہا کہ ماضی میں جیل ٹرائل کے بجائے اوپن ٹرائل ہوئے، عدالتی احکامات موجود ہیں جہاں ایک ایک فرد پر کئی ایف آئی آرز ہیں۔ ان کا کہنا تھا سلمان اکرم راجا نے لاپتا افراد کا معاملہ چیف جسٹس کے سامنے رکھا اور پنجاب میں اسٹیٹ ٹیرر ازم کے بارے میں بھی آگاہ کیا، چیف جسٹس کو بتایا کہ پنجاب میں ہمارے خلاف پولیس کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی صورتحال کو چیف جسٹس کے سامنے رکھا، 9 مئی اور 26 نومبر کے معاملے پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خطوط کا ذکر کیا گیا۔ اس کے علاوہ سینیٹرز اور ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر کا معاملہ بھی سامنے رکھا گیا، ہم نے وکلا کو ڈرانے سے متعلق تفصیلات بھی چیف جسٹس کو بتائیں اور وکلا پر فیک ایف آئی آرز کا ذکر بھی کیا۔ عمر ایوب کا کہنا تھا ملاقات میں پولیس گردی اور ریاستی جبر کا معاملہ سامنے رکھا، سرگودھا انسداد دہشتگری عدالت کا معاملہ بھی چیف جسٹس کے سامنے رکھا۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا چیف جسٹس کو فراہم کردہ ڈوزیئر پر بھی گفتگو ہوئی، انہیں بتایا کہ ہمارے کیسز نہیں لگ رہے ہیں، چیف جسٹس کو یہ بھی بتایا کیسے ہمارے ارکان اسمبلی کو زبردستی اٹھایا گیا، چیف جسٹس نے باور کرایا کہ ایسے اقدامات کریں گے جس سے ان کا حل ہو۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا چیف جسٹس کو بتایا کہ تحریک انصاف کے ورکرز اور بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کے کیسز نہیں لگ رہے، بانی کو کتابیں اور ایکسر سائز مشین تک نہیں دی جاتی، ہم نے بتایا کہ آپ کی عدالت کے حکم کو کوئی حکم سمجھتا ہی نہیں، چیف جسٹس کی جانب سے جوڈیشل کمیشن سمیت قانونی نکات پر تجاویز مانگی گئی ہیں۔ پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا چیف جسٹس کو بتایا کہ ملک میں انسانی حقوق عملاً ختم ہو چکے ہیں اور اس وقت پورے نظام عدل کو مذاق بنادیا گیا ہے، ہم نے بتایا کہ نظام عدل کو ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، اگر اس کا نوٹس نہ لیا گیا تو عوام احتجاج پر مجبور ہوں گے۔ سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا اگر یہ صحیح نہیں ہوتا کہ تو پھر ملک کس طرف جاتا ہے عمر ایوب نے بتا دیا ہے، ہم نے واضح کیا کہ قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے، عدالت دیکھے کہ کہیں نظام عدل کو آلہ کار تو نہیں بنایا جا رہا، جب عدالت سے راستہ نہیں نکلتا تو سیاسی جدوجہد واحد حل ہے، ہم نے واضح کیا کہ جیسے 26ویں ترمیم ہوئی اس کا متن اور طریقہ غلط تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کا کہنا تھا چیف جسٹس چیف جسٹس کے سامنے بانی پی ٹی ا ئی چیف جسٹس کو کو بتایا کہ ملاقات میں سامنے رکھا کا معاملہ سے ملاقات عمر ایوب ئی اور

پڑھیں:

سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔

دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔

دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے