ملکی فیصلے وہ کررہے ہیں جو منتخب نمائندے ہی نہیں ،شاہد خاقان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2025 GMT
راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملکی فیصلے وہ کر رہے جو نمائندے نہیں ہیں، حکومت مکمل ناکام ہے، آئین توڑ کر ملک نہیں چلتے، ہمارا پارلیمان خاموش ہے، کالے قانون بناتا ہے یہ عوام کا نمائندہ نہیں ہے، ہمارا پارلیمان رات کے اندھیرے میں قانون بناتا ہے۔ راولپنڈی میں پارٹی دفتر کے افتتاح پر خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے پہلے سیاسی دفتر کا افتتاح ہوگیا، پارٹی کی تنظیم نو شروع ہوگئی ہے عوام پاکستان بڑی پارٹی بنے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ملک میں پاکستانی عوام کی بات کرنے والا کوئی نہیں، آج نمائندہ حکومت نہیں فارم 47 کی حکومتیں ہیں، پاکستان جمہوریت کے بغیر نہیں رہ سکتا، آئین کی بالا دستی کے بغیر جمہوریت نہیں چلتی، جس ملک میں الیکشن چوری ہوتے ہوں وہاں معاشی حکومت نہیں چلتی۔ ملک کے حالات بہتر کرنے کیلیے کام کرنا ہے ہم آئین قانون حقوق کی بات کرنی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔