چھانگا مانگا: نوکری کا جھانسہ دے کر ملزمان کی لڑکی سے مبینہ اجتماعی زیادتی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2025 GMT
چھانگامانگا: تھانہ كنگن پور کے علاقہ لوحے جٹاں میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں 3 ملزمان نے مبینہ طور پر ایک لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
تفصیلات کے مطابق شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والی متاثرہ لڑکی ندا کوثر کو ملزم لیاقت علی نے نوکری کا جھانسہ دے کر کاہنہ بلوایا۔ درج ایف آئی آر کے مطابق، لیاقت علی متاثرہ لڑکی کو کاہنہ سے الہ آباد لے گیا جہاں سے وہ ایک گاڑی (جیپ) میں اسے كنگن پور کے علاقے میں واقع ایک حویلی لے آیا۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر ندا کوثر کے ساتھ باری باری زیادتی کی اور بعد ازاں اسے وہیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ متاثرہ لڑکی نے پولیس کو دیے گئے بیان میں تمام تفصیلات بیان کیں جس کے بعد تھانہ كنگن پور پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔
پولیس نے دو نامزد ملزمان لیاقت علی، جاوید اور ایک نامعلوم شخص کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، تاہم تاحال کسی بھی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست
اغوا برائے تاوان کیس میں پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا ہے اور ان کے وکیل نے عدالت سے ضمانت واپس لینے کی درخواست کی ہے۔
کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی منتظم عدالت میں اداکار منیب بٹ کے خلاف اغوا برائے تاوان کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں ان کے وکیل نے ضمانت واپس لینے کی درخواست دائر کر دی۔
سماعت کے دوران وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے اپنے چالان میں منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا ہے، لہٰذا ضمانت کی درخواست واپس لینے کی اجازت دی جائے۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے مدعی محمد متعال کو اغوا کر کے 24 لاکھ 94 ہزار روپے مالیت کی کرپٹو کرنسی اور دیگر سامان لوٹ لیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ منیب بٹ پر ملزمان کو مری میں رہائش دلوانے کا الزام تھا، تاہم تفتیش مکمل ہونے کے بعد انہیں چالان میں بے گناہ قرار دیا گیا۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں ایک پولیس اہلکار غالب تاحال مفرور ہے، جبکہ دیگر ملزمان میں شاہد ستار، محمد سلیم، علیم اور وزیر محمد شامل ہیں۔
تحقیقات کے مطابق ملزمان نے 23 اپریل کو شاہراہِ فیصل سے محمد متعال کو اغوا کیا اور کرپٹو کرنسی سمیت دیگر قیمتی سامان چھیننے کے بعد انہیں کورنگی انڈسٹریل ایریا میں چھوڑ دیا تھا۔