اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات ، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ واجد علی گیلانی صدر منتخب ہو گئے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2025 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات ، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ واجد علی گیلانی صدر منتخب ہو گئے WhatsAppFacebookTwitter 0 23 February, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز) ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات میں صدارت کی نشست پر واجد علی گیلانی نے میدان مار لیا جبکہ منظور احمد ججہ سیکریٹری جنرل منتخب ہو گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات میں صدارت کی نشست پر واجد علی گیلانی 974 ووٹ لیکر جیت گئے جبکہ ان کے مدمقابل عبدالواحد قریشی 704 ووٹ لے سکے ہیں ۔
سیکریٹری جنرل کی نشست پر منظور احمد ججہ 844 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں سیکرٹری کی نشت پر قاسم نواز عباسی 828 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے ہیں ۔
نائب صدارت کی نشست پر افتحار احمد باجوہ 896 ووٹ لیکر کامیاب جبکہ راجہ منظر علی کیانی 673 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
ایڈیشنل سیکرٹری کی نشست پر بشریٰ حق راجہ 825 ووٹ لیکر کامیاب اور پلوشہ ایاز خان 815 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہی جوائنٹ سیکرٹری کی نشست پر عمران اشفاق 955 ووٹ لیکر جیت گئے جبکہ سید ظاہر شاہ 655 ووٹ لیکر ہار گئے۔
فنانس سیکرٹری کی نشت پر 966 ووٹ لیکر فضل مولا کامیاب، محسن عباسی 604 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے بار الیکشن میں مجموعی طور پر 1718 ووٹ کاسٹ ہوئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے واجد علی گیلانی
پڑھیں:
بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی ہڑتال کی کالیں غیر قانونی قرار
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی آئینی عدالت نے بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی جانب سے دی جانے والی ہڑتال کی کالیں غیر قانونی قرار دے دیں۔وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس عامر فاروق کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق عدالت نے تفصیلی فیصلہ میں لکھا کہ یہ ہڑتالیں سائلین کے انصاف تک رسائی کے آئینی حق کی خلاف ورزی ہیں، ایسی ہڑتالیں شہریوں کو قانونی نمائندگی سے محروم اور پہلے سے دباؤ کا شکار اور عدالتی نظام پر مزید بوجھ ڈالتی ہیں، جب ہڑتال کی کال دی جاتی ہے تو وکلا تنظیمیں وکلا کو عدالتوں میں پیش ہونے سے روکتی ہیں۔
سمرکیمپ سے متعلق احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، وزیر تعلیم پنجاب
فیصلہ میں بتایا گیا کہ وکیل کی عدم پیشی پر مقدمے کی سماعت بغیر کسی پیش رفت کے ملتوی کر دی جاتی ہے، ہمارا قانونی نظام پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے، عدالتوں میں مقدمات کی طویل فہرستیں موجود ہیں، سائلین کو اپنے مقدمات کے فیصلے کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ چاہے وکلا کی ہڑتال کا مقصد کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو، یہ مسئلے کا حل نہیں، انصاف تک رسائی سے کسی بھی شکل میں محروم کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔
واضح رہے کے پی بار کونسل نے وکلا کو وکیل کے قتل میں نامزد ملزم ایس ایچ او کی قانونی نمائندگی سے روکا، پولیس افسر کی قانونی نمائندگی پر وکیل کا لائسنس معطل کر دیا گیا، متاثرہ وکیل نے لائسنس معطلی کے خلاف پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تاہم پشاور ہائیکورٹ نے درخواستیں منظور کرتے ہوئے لائسنس بحالی کا فیصلہ دیا۔
سندھ سے تیل اور گیس کے ذخائر دریافت
آئینی عدالت نے وکیل کے لائسنس بحال کرنے کا پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔