ڈی جی آئی ایس پی آر کی این سی اے کے طلبا سے خصوصی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2025 GMT
لاہور:
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کے طلبا اور اساتذہ سے خصوصی ملاقات کی جس میں انھوں نے کھلے دل سے مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔
اس دوران این سی اے کے طلباء نے ڈی جی آئی ایس پی آر سے پاکستان کی اندرونی و بیرونی سیکیورٹی صورتحال سمیت مختلف امور پر سوالات کیے۔
طلبا کا کہنا تھا کہ اس سیشن نے پاک فوج کے حوالے سے ان کے ذہنوں میں موجود کئی شبہات کو دور کرنے میں مدد دی ہے۔
نشست کے اختتام پر اساتذہ اور طلباء نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی ایسے سیشنز کا انعقاد ہونا چاہیے تاکہ غلط معلومات اور غلط فہمیوں کا موثر تدارک کیا جا سکے۔
پروفیسر شہناز ملہی نے اس موقع پر کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ زلزلہ ہو، کورونا ہو یا کوئی اور قدرتی آفت، پوری قوم سب سے پہلے پاک فوج کی طرف دیکھتی ہے،فوج نے کبھی قوم کو مایوس نہیں کیا۔
این سی اے کے اساتذہ اور طلباء نے اس خصوصی نشست کے انعقاد پر پاک فوج کا شکریہ ادا کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔