پاک بھارت ٹاکرے سے قبل بابر اعظم پریکٹس سیشن سے غائب، میچ میں شرکت مشکوک؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2025 GMT
بھارت کے خلاف آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کے میچ سے قبل قومی کرکٹ ٹیم نے دبئی کرکٹ اسٹیڈیم میں پریکٹس کی، تاہم سابق کپتان بابر اعظم پریکٹس سیشن کے دوران نظر نہ آئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم آج دبئی اسٹیڈیم میں روایتی حریف بھارت سے ٹکرائے گی، قومی ٹیم نے اسٹیڈیم پہنچ کر رنگ آف فائر میں پریکٹس کی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے آفیشل فیس بک پر جاری پوسٹ کے مطابق کھلاڑیوں نے وارم اپ سیشن اور ایکسرسائز ڈرلز میں حصہ لیا، کوچز نے کھلاڑیوں کو کیچز اور فیلڈنگ کی پریکٹس کرائی۔
تاہم سابق کپتان بابر اعظم پریکٹس کے لیے نہ جا سکے بلکہ انہوں نے ہوٹل میں ہی فزیکل ٹریننگ حاصل کی۔ اطلاعات سامنے آئی کہ بابر اعظم نے زکام کی وجہ سے پریکٹس سیشن میں حصہ نہیں لیا۔
قیاس آرئیاں کی جارہی ہیں کہ بابر اعظم میچ کے لیے مکمل فٹ نہیں جس کے باعث وہ پریکٹس سیشن میں نظر نہ آئے۔
قومی کرکٹ ٹیم کے پریکٹس سیشن کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی بھی اسٹیڈیم میں موجود تھے۔
خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان چیمپئنز ٹرافی کا ٹاکرا آج 23 فروری کو دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ہوگا،
بڑے میچ ٹکٹس کم وقت میں ہی فروخت ہوگئے تھے۔ کھلاڑیوں نے پاک بھارت میچ کیلئے بھرپور پریکٹس کی۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان چیمپئنز ٹرافی کا ہائی وولٹیج مقابلہ دوپہر 2 بجے شروع ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسٹیڈیم میں پریکٹس سیشن
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔