لاہور:

پاکستان ریلویز کو اپ گریڈ کا منصوبہ مکمل ہی نہ ہو سکا  جس کی وجہ سے آئے روز مسافر اور مال بردار ٹرینیں ڈی ریل ہونے لگی  ہیں۔
 

ریلوے ذرائع کے مطابق انتظامیہ مسافروں کو محفوظ سفری سہولت دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔سکھر کے بعد اب لاہور ڈویژن میں بھی ٹرینوں کا پٹڑی سے اترنا معمول بن  گیا ہے، جو  ریلوے کے شعبہ مکینیکل اور سول کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔

لاہور ڈویژن میں ایک ماہ کے دوران 4 ٹرینیں پٹڑی سے اتر گئیں۔ ریلوے ڈویژنل مکینیکل اور سول انجینئر افسران سیٹوں کے مزے لوٹنے میں  مصروف ہیں جب کہ مسافر خود کو غیر محفوظ تصور کررہے ہیں۔

31جنوری کو شاہدرہ پل پر شالیمار ایکسپریس کو حادثہ پیش آیا، جس میں ٹرین کی 3 بوگیاں شاہدرہ پل سے ڈی ریل ہوئیں۔ اسی طرح 18فروری کو مغلپورہ کینال برج پر مال گاڑی کی ایک کوچ پٹڑی سے اتری۔

علاوہ ازیں 20فروری کو بھی کوٹ رادھا کشن میں مال گاڑی کو حادثہ پیش آیا اور 2 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔ بعد ازاں 22فروری کو اوکاڑہ میں مال گاڑی کو افسوسناک حادثہ پیش آیا، جس میں 5سے زائد بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں اور مال گاڑی کا انجن ٹریک سے ملحقہ مین روڈ پر پہنچ گیا۔

ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ انتظامی نااہلی اور باقاعدہ انسپکشن نہ ہونے کے باعث ٹرین حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

درج بالا چاروں حادثات میں کسی متعلقہ آفیسر کو سزا نہیں ہوسکی اور  ریلوے انتظامیہ نے حادثات کا سارا ملبہ ٹرین ڈرائیور ہی پر ڈال دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور ریلوے ٹریک خستہ حالی کا شکار ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مال گاڑی پٹڑی سے

پڑھیں:

خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔

(جاری ہے)

انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔

ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

متعلقہ مضامین

  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟