چوری والے فیڈرز پر سحر و افطار کے اوقات میں بجلی فراہم کی جائے گی، اویس لغاری WhatsAppFacebookTwitter 0 24 February, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز )اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس سینیٹر محسن عزیز کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں وزیر توانائی سردار اویس لغاری اور اسپیشل اسسٹنٹ برائے پاور محمد علی نے بریفنگ دی۔ اس دوران میڈیا کوریج پر اویس لغاری بھڑک اٹھے۔

دوران اجلاس وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے واضح کیا کہ حکومت کا سولر پر ٹیکس لگانے کا نہ کوئی ارادہ تھا اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کوئی منصوبہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں آئی پی پیز کا ایک بھوت سوار تھا، جسے حکومت نے بہترین انداز میں ہینڈل کیا ہے اور آئندہ بجلی کی قیمتوں میں مزید کمی متوقع ہے۔

رمضان المبارک کے حوالے سے انہوں نے اعلان کیا کہ چوری والے فیڈرز پر بھی سحر و افطار کے اوقات میں بجلی فراہم کی جائے گی اور اس سلسلے میں آج ہی احکامات جاری کیے جائیں گے۔اسپیشل اسسٹنٹ برائے پاور محمد علی نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ آئی پی پیز سے ٹاسک فورس کی بات چیت جاری ہے۔چھ پاور پلانٹس کے معاہدے ختم کر دیے گئے ہیں۔ 2002 کی پالیسی کے تحت چلنے والے پلانٹس کو اب ڈالر کے بجائے مقامی کرنسی میں ادائیگی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ منافع کی شرح کم کر دی گئی ہے اور پاور پلانٹس کو جتنی صلاحیت ہے اتنی ہی کیپسٹی ملے گی۔ ونڈ اور سولر کے 45 پاور پلانٹس سے بات چیت جاری ہے اور انہیں ٹیک اینڈ پے ماڈل پر لایا جائے گا۔ گیس اور فرنس آئل سے چلنے والے پاور پلانٹس کو کی گئی اضافی ادائیگیاں واپس لے لی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گردشی قرض کے مسئلے پر کام جاری ہے اور اس کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ حکومت بینکوں سے فکس کاسٹ پر قرض لے کر گردشی قرض کی ادائیگی کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ معاہدے ختم کیے جانے والے پاور پلانٹس کی مدت 5 سے 10 سال باقی تھی۔ آئی پی پیز کے معاہدوں میں باہمی مشاورت سے تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ ہم نے آئی پی پیز کو دو آپشن دییکہ یا تو فرانزک آڈٹ کروائیں یا معاہدوں پر نظرثانی کریں، جس کے بعد معاہدوں پر نظرثانی کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس کے دوران ایک صحافی کی جانب سے فوٹیج بنانے پر وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا کمیٹی اجلاس میں وڈیو یا آڈیو ریکارڈنگ کی اجازت ہے؟اس پر سینیٹر شبلی فراز نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر غلط خبر چلی تو پیکا قانون تو موجود ہے۔

صحافیوں نے موقف اختیار کیا کہ اے پی پی اور نیشنل اسمبلی کی جانب سے کمیٹی اجلاس کی فوٹیج بروقت فراہم نہیں کی جاتی جبکہ اے پی پی تو ایک سال سے کمیٹیوں کی فوٹیج اپلوڈ ہی نہیں کر رہی۔صحافیوں نے مزید کہا کہ ٹی وی چینلز پر اجلاس کی تفصیلات نشر کرنے کے لیے فوٹیج ضروری ہیاور اگر حکومت نہیں چاہتی کہ ان کی خبریں نشر ہوں تو ریکارڈنگ پر پابندی لگا دی جائے۔بحث کے بعد کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر محسن عزیز نے صحافیوں کو اجلاس کی فوٹیج بنانے کی اجازت دے دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: پاور پلانٹس اویس لغاری کی جائے گی آئی پی پیز انہوں نے ہے اور کہا کہ کیا کہ

پڑھیں:

سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔

دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔

دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی