لاہور:

شیوراتری منانےکے لئے انڈیا سے 109  ہندو یاتری پاکستان پہنچ گئے، متروکہ وقف املاک بورڈ کے حکام نے  لاہور  کے واہگہ بارڈر پر بھارتی مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا، شیوراتری کی تقریب 26 فروری کو شری کٹاس راج چکوال میں ہوگی۔ 

پاکستان ہائی کمیشن کی طرف سے 154 انڈین شہریوں کو کٹاس راج یاترا کے لئے ویزے جاری کئے گئے تھے تاہم صرف 109 یاتری ہی پاکستان پہنچے ہیں جن میں 24 خواتین شامل ہیں۔

انڈیا سےآنے والے ہندویاتریوں کا کہنا ہے کہ شری کٹاس راج ان کے لیے انتہائی مقدس ہے۔ انڈیا سے آنیوالے آسٹرالوجر پنڈت ربھو کانت گوسوامی نے بتایا' کہ شری کٹاس راج کی تاریخ دوہزار برس سے بھی پرانی ہے۔ سناتن دھرمی ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ بھگوان شیو جنہیں شنکربھگوان بھی کہا جاتا ہے ان  کا ظہور  اس جگہ پر ہوا۔ یوں ان کی جائے ظہور سے ایک چشمہ پھوٹ نکلا جس سے امرت بہنے لگا۔ بھگوان شنکر سانپوں کا بادشاہ ہے اس لیے کٹاس راج جھیل سانپوں سے بھری پڑی ہے۔یہاں ایک تالاب بھی ہے جو ہندوؤں کے نزدیک انتہائی مقدس ہے۔ 

پنڈت ربھوکانت گوسوامی نے بتایا کہ بھگوان شیو کی بیوی ستی دیوی کے باپ نے ان کے خاوند کی توہین کی تو وہ اپنے محبوب خاوند شیو دیو کی توہین برداشت نہ کرتے ہوئے اپنے باپ کی سلگائی ہوئی یجنا کنڈ میں کود گئیں اور اپنی جان دے دی۔ بھگوان شیواپنی بیوی کی موت پر اتنا روئے کہ ان کی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کی کٹک شا (آنسوؤں کی لڑی) وجود میں آئی۔ کٹاس راج تالاب بھگوان شیو کی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں سے وجود میں آیا جو کبھی خشک نہیں ہوگا۔ دوسرا آنسو پشک (اجمیراندیا) میں گرا تھا۔ ہندو مذہب کے مطابق کٹاس راج تالاب میں اشنان سے گناہ دُھل جاتے ہیں۔ 

بھارت سے آنے والے یاتریوں میں ایک ویلاگرجوڑا بھی شامل ہے جو مختلف ملکوں کی سیرکرتا اور وہاں کے کلچر،اہم مقامات کو اجاگرکرتا ہے۔ انڈین خاتون ویلاگر جوتی نے بتایا وہ اپنی اس یاترا کے دوران شری کٹاس راج میں ہونے والی مذہبی رسومات سمیت پاکستان میں موجود اہم مذہبی مقامات، یہاں کے کھانوں اور کلچر کو اجاگرکریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ دوسری بار پاکستان آئی ہیں انہیں بہت اچھا لگا ہے۔ پاکستانی بہت محبت اور پیارکرنے والے ہیں۔

بھارتی یاتریوں میں ایک نوجوان پنکج  ننگے پاؤں پاکستان آئے ہیں، ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ کئی برسوں سےننگے پاؤں ہیں۔ آج جب وہ بھی ہندوستان سے سینکڑوں کلومیٹرسفرکرکے پاکستان آئے ہیں تو اس وقت بھی ان کے پاؤں میں چپل ،جوتے نہیں ہیں۔ ننگے پاؤں چلنے میں تکلیف اورمشکل تو ہوتی ہے لیکن زندگی میں ہمیں جو دوسری تکلیفیں، مشکلیں پیش آتی ہیں ان کے مقابلے میں یہ تکلیف کچھ بھی نہیں ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بھگوان کوخوشنودی کے لئے انہوں نے چپل ترک کی تھی اگربھگوان کو منظور ہوا تو زندگی میں دوبارہ جوتا پہنیں گے نہیں تو اسی طرح اس دنیا سے رخصت ہوجائیں گے۔ 

بھارتی یاتریوں کے گروپ لیڈر ترلوک چند نے کہا کہ مذہبی سیآحت کے فروغ سے پاکستان اور انڈیا کے مابین کشیدہ تعلقات میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔ دونوں ملکوں کو زیادہ سے زیادہ ویزے دینا چاہیئں۔

متروکہ وقف املاک بورڈ کے ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز سیف اللہ کھوکھر نے بتایا کہ ہندویاتری ایک دن گوردوارہ ڈیرہ صاحب لاہور میں قیام کریں گے اور 25 فروری کو چوا سیدن شاہ چکوال کے قریب  تاریخی کٹاس راج مندر روانہ ہوں گے جہاں 26فروری کو ہندو یاتری مہا شیو راتری کی مناسبت سے اپنی مذہبی رسومات ادا کریں گے۔

بھارتی یاتری کٹاس راج میں قیام کے دوران شیو لنگ کی پوجا بھی کریں گے۔ بھارتی یاتری لاہور میں کرشنامندر، لوہ کامندر ،بالمیک مندر اور جین مندر کی یاترا کےعلاوہ انارکلی بازار اوردہلی گیٹ بازار کی سیر اور خریداری بھی کریں گے اورپھر2 مارچ کو بھارت واپس روانہ ہوں گے۔

سیف اللہ کھوکھر نے بتایا بھارتی یاتریوں کی سیکیورٹی، ٹرانسپورٹ، قیام وطعام کے بہترین انتظامات کئے گئے ہیں۔ بھارتی یاتریوں سے ٹرانسپورٹیشن کے لئے 17 ہزار روپے فی کس کرایہ لیا گیا ہے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بھارتی یاتری نے بتایا کہ انہوں نے کریں گے کے لئے

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ، ہمسایہ ملک وسائل فراہم کر رہا ہے: وزیراعظم
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ