ٹرمپ نے آسکر انعام یافتہ اداکارہ کی آرمی اسکولوں میں پڑھائی جانے والی کتاب پر پابندی لگادی
اشاعت کی تاریخ: 25th, February 2025 GMT
امریکی فوجی اسکولوں میں 2007 میں شائع ہونے والی کتاب ;Freckleface Strawberry کے پڑھانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس کتاب میں ایک نوجوان لڑکی کی کہانی بیان کی گئی ہے جس کے چہرے پر داغ اور بال سرخ رنگ کے ہیں۔
یہ معصوم لڑکی اپنے اس بدنما حلیے کو قبول کرنا سیکھتی ہے اور زندگی کے سفر میں کامیابیاں بٹورتی ہے۔
یہ کتاب ہالی ووڈ کی اداکارہ اور مصنفہ جولین مورے نے لکھی تھی۔
اس کتاب پر پابندی ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی فوجی اسکولوں میں تمام کتابوں کا "مطابقتی جائزہ" لینے کی پالیسی کے تحت عائد کی گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس پالیسی کا مقصد اسکولوں کے تعلیمی مواد’’جنسی تفریق یا امتیازی مساوات‘‘ کی شناخت کرنا ہے۔
کتاب پر پابندی کے بارے میں اداکارہ اور مصنفہ جولین نے 20 فروری کو اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں بتایا تھا۔
تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے کتاب پر پابندی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے "جھوٹ" قرار دیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کا مقصد اسکولوں سے نسل، جنس اور تنوع پر بات چیت کو ختم کرنا ہے۔
ٹرمپ کے جنس سے متعلق ایگزیکٹو آرڈرز ایسے تعلیمی مواد پر پابندی لگاتا ہے جس میں مرد اور عورت کے علاوہ کسی اور جنس کے بارے میں بتایا گیا ہو۔
امریکا میں تعلیمی سال 2023-24 میں 10 ہزار سے زائد کتب پر پابندی لگائی گئی ہے جن میں زیادہ تر کتابیں نسلی، جنسیت اور تاریخی مسائل پر مبنی تھیں۔
یاد رہے کہ ایڈاہو کے ہاؤس بل 710 جو یکم جولائی 2024 سے نافذ العمل ہے کے تحت جنسی معلومات پر مبنی کتب کو بالغوں کے سیکشن میں منتقل کرکے بچوں کی پہنچ سے دور رکھا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔