حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد نے 2 روزہ قومی کانفرنس  کے اختتام پر کانفرنس کا اعلامیہ جا ری کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:اپوزیشن اتحاد ایجنڈا سامنے لائے، حکومت بات چیت کے لیے تیار ہے، رانا ثنااللہ کی پیشکش

اپوزیشن اتحاد کی قومی کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ کے وجود کی کوئی اخلاقی، سیاسی اور قانونی حیثیت نہیں۔ موجودہ بحران کا واحد حل آزادانہ، شفاف اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومتی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تمام سیاسی اسیروں کو فوری طور پر رہا کیا جائے، عوام اور میڈیا کی زبان بندی کے لیے لائی گئی پیکا ترامیم کو ختم کیا جائے۔

اپوزیشن اتحاد نے اعلامیے میں کہا ہے کہ موجودہ سیاسی، معاشی اور سماجی بحران کی جڑ 8 فروری کے دھاندلی شدہ انتخابات کے نتائج ہیں۔

اعلامیے کے مطابق مسائل کا حل صرف اور صرف آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی میں ہے۔ ملک کے موجودہ بحران کا واحد حل آزادانہ، شفاف اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ناجائز حکومت آئین کے نام سے گھبراتی ہے، کل اسلام آباد میں قومی کانفرنس ہر صورت ہوگی، اپوزیشن اتحاد

اعلامیے کے مطابق پانی کے وسائل کی تقسیم 1991 کے آبی معاہدے کے مطابق ہونی چاہیے۔

قبل ازیں کانفرنس میں اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے ملک میں آئین اور جمہوریت کی بحالی پر زور دیتے ہوئے ملک و قوم کے بہتر مستقبل کے لیے تجاویز بھی پیش کی گئیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اپوزیشن اتحاد اعلامیہ انتخابات ترامیم حکومت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اپوزیشن اتحاد اعلامیہ انتخابات حکومت اپوزیشن اتحاد قومی کانفرنس کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا