UrduPoint:
2026-07-24@13:11:24 GMT

ٹیسلا کے لیے مشکلات کے باوجود بھارتی مارکیٹ اہم کیوں؟

اشاعت کی تاریخ: 2nd, March 2025 GMT

ٹیسلا کے لیے مشکلات کے باوجود بھارتی مارکیٹ اہم کیوں؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 مارچ 2025ء) امریکی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا نے حال ہی میں بھارت میں ملازمتوں کی تشہیر شروع کر دی ہے۔ کمپنی نے اپنی ویب سائٹ پر دارالحکومت نئی دہلی اور ملکی اقتصادی مرکز ممبئی دونوں کے لیے اسٹور مینیجر اور سروس ٹیکنیشن سمیت ایک درجن بھر آسامیاں مشتہر کیں۔ کمپنی کا یہ اعلان اس کے سی ای او ایلون مسک کی واشنگٹن میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ون آن ون ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔

ٹیسلا کی انتظامیہ کئی سالوں سے دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ملک بھارت کی مارکیٹ میں داخلے پر غور کر رہی ہے۔ گزشتہ سال بھارتی میڈیا پر ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں، جن کے مطابق ٹیسلا فیکٹری اور شو روم کے لیے موزوں مقامات کی تلاش کر رہی تھی۔

(جاری ہے)

بھارت میں الیکٹرک کاروں کی مارکیٹ ابھی اتنی بڑی نہیں اور ایسے میں یہ ٹیسلا کے لیے ترقی کا ایک اچھا موقع کیونکہ اسے چینی حریف کمپنیوں سے مقابلہ کرنے اور اپنی گاڑیوں کی سالانہ فروخت میں پہلی بار کمی کی وجہ سے جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے۔

ایک اہم اور امید افزا مارکیٹ

بھارت کے پاس حجم کے لحاظ سے دنیا کی تیسری سب سے بڑی آٹوموٹیو مارکیٹ ہے۔ اور مودی حکومت کے پیش نظر بیٹری سے چلنے والی گاڑیوں کے لیے بڑے منصوبے ہیں۔ بیٹری اوکے ٹیکنالوجیز کے بانی اور سی ای او شبھم مشرا نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ 2030ء تک ملک میں نئی کاروں کی فروخت کا 30 فیصد حصہ الیکٹرک کاروں کا ہو۔

تاہم مشرا کے بقول، ''پھر بھی، اہم چیلنجز باقی ہیں۔''

انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''ٹیسلا کے ماڈل تھری کی موجودہ قیمت تقریباﹰ چالیس ہزار ڈالر سے شروع ہوتی ہے یہ بھارتی مارکیٹ میں صارفیں کے لیے قابل برداشت حد سے کہیں زیادہ ہے، جہاں فروخت ہونے والی اسی فیصد کاروں کی قیمت اسی ہزار ڈالر سے کم ہے۔'' انہوں نے مزید کہا، ''ممکنہ طور پر تیس ہزار ڈالر سے کم لاگت کا مقابلہ کرنے والا ماڈل تیار کرنا ضروری ہو گا، جس میں بھارت کے چالیس ڈگری سیلسیس سے زیادہ درجہ حرارت کا مقابلہ کرنے کے لیے بیٹری کے معیار کو برقرار رکھنے پر غیر متزلزل توجہ مرکوز کی جائے گی۔

''

مشرا نے یہ بھی کہا کہ بھارت میں الیکٹرک گاڑیوں کی ستر فیصد مارکیٹ پر قابض ٹاٹا موٹرز جیسے مقامی حریفوں سے بھی ٹیسلا کو ایک زبردست خطرہ ہے۔

ای ویز بنانے والوں کے لیے مراعات اور چیلنجز

بھارت میں میں طویل عرصے سے الیکٹرک گاڑیوں کے لیے زیادہ درآمدی ٹیکس لگا ہوا ہے، جس کی وجہ سے مقامی مینوفیکچرنگ کی عدم موجودگی میں بھی ٹیسلا کو مارکیٹ میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے۔

تاہم پچھلے سال بھارت نے ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کو فروغ دینے کے لیے ایک پروگرام شروع کیا۔ اس پالیسی کے تحت ان عالمی کار سازوں کے لیے ای کاروں پر درآمدی ڈیوٹی میں کمی کردی گئی ، جنہوں نے 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے اور تین سال کے اندر مقامی پیداوار شروع کرنے کا عہد کیا تھا۔

اس حکومتی اقدام کو ٹیسلا کو مقامی پلانٹ لگانے کی ترغیب دینے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تاہم یہ پالیسی تمام الیکٹرک کار سازوں پر لاگو ہوتی ہے۔ ویتنامی کار ساز کمپنی ون فاسٹ نے پہلے ہی اس سال بھارت میں الیکٹرک گاڑیوں کی فیکٹری لگانے پر دو بلین ڈالر خرچ کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ ان منصوبوں کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ملک کا چارجنگ انفراسٹرکچر ہے۔ حالیہ برسوں میں بھارت میں ای وی چارجنگ نیٹ ورک میں اضافہ ہوا ہے، جو 2022ء کے اوائل میں 1800 پبلک چارجنگ اسٹیشنوں سے بڑھ کر 2024ء کے وسط تک 16،000 سے زیادہ ہو گئے ہیں ہے۔

جیت کی صورت حال؟

سوسائٹی آف انڈین آٹوموبائل مینوفیکچررز کے سابق ڈائریکٹر جنرل دلیپ چنائےکا کہنا ہے کہ چیلنجز کے باوجود ٹیسلا جدید ٹیکنالوجی لا کر، صارفین کی پسند میں اضافے اور مسابقت کو بڑھا کر بھارت میں الیکٹرک گاڑیوں کے حصول میں تیزی لا سکتا ہے۔

چنائے نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''اگرچہ بھارتی صارفین کے لیے گاڑیوں کی قیمتوں کا تعین کرنے،اسے مقامی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے اور چارجنگ انفراسٹرکچر کو آگے بڑھانے میں چیلنجز بدستور موجود ہیں لیکن یہ ٹیسلا اور بھارت دونوں کے لیے ایک جیت ہے۔

ٹیسلا کے لیے یہ ایک بڑھتی ہوئی مارکیٹ اور ایک نئی پیداوار کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ بھارت کے لیے یہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کار ، ٹیکنالوجی تک رسائی اور ایک مضبوط الیکٹرک گاڑیوں کا نظام قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا، جو صارفین کو زیادہ انتخاب کی پیشکش کرے گا۔''

مرالی کرشنن ( ش ر⁄ ک م )

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے میں الیکٹرک گاڑیوں بھارت میں الیکٹرک میں بھارت گاڑیوں کی ٹیسلا کے کے لیے

پڑھیں:

جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا

تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔

غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔

سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔

ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔

تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ