روس یوکرین جنگ بندی کے لیے برطانیہ اور فرانس کی تجویز کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, March 2025 GMT
روس یوکرین جنگ بندی کے لیے برطانیہ، فرانس اور یوکرین مل کر ایک منصوبہ تیار کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔ جس کے تناظر میں فرانس اور برطانیہ کی جانب سے یوکرین میں ایک ماہ کی جنگ بندی کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ سربراہان نے جنگ جاری رہنے تک یوکرین کی فوجی مدد جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی کے درمیان جھگڑے کے بعد لندن میں 18 یورپی ممالک کا یوکرین کی حمایت میں اجلاس منعقد ہوا، جس میں وائٹ ہاؤس میں کشیدگی کے بعد کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مزید پڑھیں: یوکرین کے امن کی خاطر امریکا سے نایاب دھاتوں کا معاہدہ کرنا ہوگا، ولادیمیر زیلینسکی
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک یوکرین کے ساتھ جنگ روکنے کے منصوبے پر کام کریں گے، جسے امریکا کے سامنے پیش کریں گے۔ یوکرین کی سلامتی میں ہی پورے براعظم یورپ کا استحکام ہے۔
یورپین کمیشن کی صدر نے کہا یورپ کو فوری طور پر دوبارہ مسلح کرنے کی ضرورت ہے۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی نے کہا کہ یورپی سربراہ اجلاس کے بعد ہمیں یورپ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ انتہائی اعلیٰ سطح پر یورپی اتحاد طویل عرصے سے نہیں دیکھا گیا۔ مجھے یقین ہے امریکا کے ساتھ ہمارے تعلقات جاری رہیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ برطانیہ، روس یوکرین جنگ بندی فرانس یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ برطانیہ روس یوکرین جنگ بندی ولادیمیر زیلینسکی
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔