ماہ فروری میں مہنگائی حکومتی تخمینوں سے بھی نیچے آگئی،سالانہ بنیاد پر مہنگائی 1.52فیصد ریکارڈ WhatsAppFacebookTwitter 0 3 March, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)ماہ فروری میں مہنگائی حکومتی تخمینوں سے بھی نیچے آگئی،سالانہ بنیاد پر فروری میں مہنگائی 1.52 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کیمطابق گزشتہ ماہ مہنگائی میں 0.

83 فیصد کمی آئی،شہری علاقوں میں 1.8 فیصد، دیہی علاقوں میں 1.1 فیصد،جولائی تا فروری مہنگائی کی اوسط شرح 5.85 فیصد رہی، ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ایک ماہ میں دال چنا اورچائے 10 فیصد، بیسن 9 فیصد تک سستا ہوا،گندم 3 فیصد،دال ماش 2.82 فیصد اور آٹا 2.23 فیصدسستا ہوا،چکن،دال مسور،مونگ، مچھلی، دودھ کی مصنوعات کیدام کم ہوئے،ایندھن،ٹرانسپورٹ سروسز،تعمیراتی سامان، بجلی، اسٹیشنری بھی سستی ہوئی۔
گزشتہ ماہ ٹماٹر 57 فیصد اورپیاز 32 فیصد سستا ہوا، آلو 20 فیصد، سبزیاں 17 فیصد تک سستی ہوئیں،انڈوں کی قیمت میں 14 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی۔گزشتہ ماہ پھل 15 فیصد،چینی 9.35 فیصد،مکھن 5.61 فیصدمہنگا ہوا،مصالحے 1.59 فیصد، بیکری آئٹمز 1.19فیصدمہنگے ہوئے،مشروبات 1.16 فیصد،شہد 1.12فیصد تک سستا ہوا،خوردنی تیل،گھی، گوشت،چاول، ریڈی میڈ فوڈ بھی مہنگی اشیا میں شامل ہیں،خشک دودھ، رہائشی سہولیات،ڈاکٹر فیس،مکینکل سروسز بھی مہنگی ہوئیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: فروری میں مہنگائی

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی