گولا بجا کر سحری اور افطار کا اعلان، ڈی آئی خان کی دلچسپ ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, March 2025 GMT
ڈی آئی خان(نیوز ڈیسک)پرانے زمانے میں جب لوگوں کے پاس گھڑیاں نہیں ہوتی تھیں تو وہ مختلف طریقوں سے سحری اور افطاری کے اوقات کا تعین کرتے تھے لیکن جدید دور میں نئی ٹیکنالوجی آنے سے پرانی روایات معدوم ہوتی جا رہی ہیں، ایک وقت تھا جب سحری اور افطاری کے وقت ڈھول یا گولے بجا کر اطلاع دی جاتی تھی لیکن اب یہ سلسلہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔
لیکن خیبر پختونخوا کے ضلع ڈی آئی خان میں آج بھی افطاری و سحری کے وقت گولا بجانے کی روایت زندہ ہے جو پچھلے 200 سالوں سے چلی آ رہی ہے ڈیرہ اسماعیل خان میں سحری اور افطار کا اعلان آج بھی گولا بجا کر روایتی انداز میں کیا جاتا ہے۔
تقریبا پچھلے 200 سالوں سے ڈیرہ اسماعیل خان میں سحری اور افطار کا اعلان گولا بجا کر روایتی انداز میں کیا جاتا ہے
یہ سنا گیا ہے کی پاکستان بھر میں صرف ڈیرہ اسماعیل خان وہ شہر ہے جہاں پہ اس طرح سے سحری اور افطاری کا اعلان کیا جاتا ہے
©️وقاص علی pic.
— Pakistan Tourism (@PakistanJannatt) March 2, 2025
ڈیرہ اسماعیل خان میں ایسے ہی گولا بجا کر سحری و افطاری کی اطلاع دینے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جسے صارفین کی جانب سے خوب سراہا جا رہا ہے۔
تقریبا پچھلے 200 سالوں سے ڈیرہ اسماعیل خان میں سحری اور افطار کا اعلان گولا بجا کر روایتی انداز میں کیا جاتا ہے
یہ سنا گیا ہے کی پاکستان بھر میں صرف ڈیرہ اسماعیل خان وہ شہر ہے جہاں پہ اس طرح سے سحری اور افطاری کا اعلان کیا جاتا ہے
کئی صارفین کا کہنا ہے کہ پرانی روایات کو قائم رکھنا اچھی چیز ہے جبکہ کئی صارفین ایسے بھی تھے جن کا کہنا تھا کہ ان کے علاقوں میں بھی سحری و افطاری کے لیے ایسے ہی گولوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔
صفورا صدف لکھتی ہیں کہ ایک وقت تھا جب اس گولے کی آواز پر سحری اور افطاری کرتے تھے اور اب ٹی وی لگا کے اذان کا انتظار کرتے ہیں۔
عابد نامی صارف نے لکھا کہ ایسا صرف ڈیرہ اسماعیل خان میں نہیں بلکہ پاکستان کے ہر شہر میں ہوتا ہے۔
مزیدپڑھیں:فروری میں کن اشیا کی قیمتیں کم ہوئیں اور کن کی زیادہ؟ اعدادوشمار جاری
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: سحری اور افطار کا اعلان ڈیرہ اسماعیل خان میں سحری اور افطاری گولا بجا کر کیا جاتا ہے
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔