پٹرولیم ڈیلرز سے مذاکرات کامیاب، ہڑتال کی کال واپس لے لی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, March 2025 GMT
وزیر پٹرولیم سے پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے راہنماؤں کے مذاکرات پٹرولیم ڈیلرز کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے کی تجویز کی مخالفت کی گئی جبکہ ڈی ریگولیشن کے عمل میں ڈیلرز ایسوسی ایشن سے مکمل ان پٹ لینے پر اتفاق ہوا۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی حکومت سے مذاکرات کے بعد پٹرولیم ڈیلرز نے کل کی ہڑتال کی کال واپس لے لی۔ وزیر پٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک سے پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے راہنماؤں کے مذاکرات ہوئے جس میں چیئرمین اوگرا اور وزارت پٹرولیم کے حکام بھی شریک ہوئے۔ ذرائع نے بتایا کہ پٹرولیم ڈیلرز کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے کی تجویز کی مخالفت کی گئی جبکہ ڈی ریگولیشن کے عمل میں ڈیلرز ایسوسی ایشن سے مکمل ان پٹ لینے پر اتفاق ہوا۔ خیال رہے اس قبل مصدق ملک نے آئل سیکٹر کی قیمتوں کی ڈی ریگولیشن کا اعلان کیا تھا۔ دوسری جانب ترجمان پٹرولیم ڈیلرز کے مطابق پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وزیر پٹرولیم سے مذاکرات ہوئے اور ڈیلرز نے کل کی ہڑتال کی کال واپس لے لی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈیلرز ایسوسی ایشن پٹرولیم ڈیلرز سے پٹرولیم
پڑھیں:
پیٹرولیم مصنوعات موبائل فون، انٹرنیٹ سروسز کے بعد ادویات بھی مہنگی ہونے کا خدشہ
ملک میں پیٹرولیم مصنوعات، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز مہنگی ہونے کے بعد ادویات بھی مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی کابینہ کمیٹی برائے ادویات کی قیمتوں کا آٹھواں اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر برائے قومی صحت مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار محمد رضا حیات ہراج، سیکریٹری قومی صحت، ضابطہ و رابطہ محمد اسلم غوری، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ اور وزارت تجارت و وزارت خزانہ کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔
اجلاس میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے نئی ادویات کی قیمتوں کے تعین، ہارڈ شپ درخواستوں، قیمتوں سے متعلق دیگر معاملات اور ضروری ادویات کی دستیابی کے حوالے سے اپنی سفارشات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
بریفنگ میں گزشتہ اجلاس کے بعد ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا اور کمیٹی کے غور کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق فیصلے شفاف، شواہد پر مبنی، مشاورتی عمل کے تحت اور وسیع تر عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ضروری ادویات تک مریضوں کی رسائی، ادویہ ساز صنعت کی پائیدار فراہمی اور مریضوں کے لیے ادویات کی استطاعت کے درمیان متوازن حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
وزیر خزانہ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اہم ادویات سے متعلق فیصلوں کی وجوہات عوام تک واضح انداز میں پہنچائی جائیں تاکہ ان کے پس منظر اور مقاصد کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔