لاہور ہائیکورٹ نے ماتحت عدلیہ میں 33 نئے سول ججز کی تعیناتی کی منظوری دے دی۔ چیف جسٹس کی منظوری کے بعد ایڈیشنل رجسٹرار امتحانات نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ لاہور ہائیکورٹ نے ماتحت عدلیہ میں 33 نئے سول ججز کی تعیناتی کی منظوری دے دی۔ چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کی منظوری کے بعد ایڈیشنل رجسٹرار امتحانات نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا، مہوش انجم، تنزیلہ تبسم، اسد حیات، اقصیٰ اقبال، محمد نبیل لطیف کو سول جج مقرر کر دیا گیا۔
سلیم اللہ ملک، عروج رحمان، اقرا بشارت، ماریہ صابر، زہرا جیمل، وسیم شہزاد، اقصیٰ بشیر، سائرہ شہزادی، محمد عثمان، سحر اتیاب، محمد احمد، محمد نعیم الیاس سول جج مقرر ہو گئے۔ شعیب سکندر، خولہ شاہد، زاہدہ پروین، شبنم سلیم، خدیجہ سجاد، ناصر حبیب، احمد خالد، ذکا الحسن، سلمان احمد، محمد عمر جمیل سول جج مقرر افیفا ممتاز، عبد الماجد شہاب، مصدق اصغر، زاہد بشیر، ماہ نور الیاس اور مہرین فاطمہ کو بھی سول جج مقرر کر دیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سول جج مقرر کی منظوری کر دیا

پڑھیں:

سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا

قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔

اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔

بھارت دہشت گردی برآمد کرتا ہے، صائمہ سلیم

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔

صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے قائم مقام وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • آئی جی پنجاب نے27افسران کے تقرروتبادلے کر دیے
  • لاہور سے تعلق رکھنے والی سعدیہ زاہدی عالمی فضائی تنظیم کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری