سال کی سب سے بڑی چوری، بینک لاکر سے 10 کروڑ مالیت کا سامان غائب
اشاعت کی تاریخ: 5th, March 2025 GMT
کراچی (نیوزڈیسک) ڈیفنس میں نجی بینک کے لاکر سے 10 کروڑ روپے مالیت کا سامان غائب ہوگیا، مقامی تاجر نے درخشاں تھانے میں واردات کا مقدمہ درج کروادیا۔ کراچی کے ایک مقامی تاجر نے درخشاں تھانے میں مقدمہ درج کروا دیا، مقدمے میں بینک آپریشن منیجر سمیت دیگر کو نامزد کیاگیا ہے۔
مقدمہ کے متن کے مطابق جولائی 2009 میں بڑے سائز کا لاکر بک کیا تھا، جس میں مختلف اوقات میں 10 کروڑ روپے مالیت کے طلائی زیورات، ڈائیمنڈ سیٹس، دستی گھڑیاں اور غیر ملکی کرنسی رکھی تھی۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ 19 فروری 2025 کو جب تاجر کی اہلیہ نے لاکر کھولا تو لوہے کا ڈبہ موجود نہیں تھا، لوہے کے ڈبے میں کیش، زیورات اور گھڑیاں تھیں۔فرسٹ انفارمیشن رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس حوالے سے بینک آپریشن منیجراور لاکر کسٹوڈین کو آگاہ کیا تو وہ ڈبا ڈھونڈنے لگے، لوہے کا خالی ڈبہ کونے میں دیگر ڈبوں کے ساتھ موجود تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق زیورات کے پاؤچز خالی حالت میں لاکرز کے اوپر چھت کی سیلنگ کے اندر سے ملے، 2 دن بعد دوبارہ بینک گئے تو عملے نے لاکرز سے کچھ جیولری کے خالی باکس، گھڑی کا ایک ڈبہ بھی نکال کر دیا۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ شبہ ہے کہ برانچ منیجر نے عملے کے ساتھ مل کر سامان چوری کیا۔
ریٹائرڈ بلدیاتی ملازمین کی پنشن کیلئے 10کروڑ چھیاسی لاکھ 95 ہزار روپےجاری کرنے کی منظوری
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔