مذاکرات کے دوران حکومت سولر پالیسی پر آئی ایم ایف کے تحفظات دور کرنے کے لیے کوشاں
اشاعت کی تاریخ: 5th, March 2025 GMT
اقتصادی جائزے کے حوالے سے وزارت توانائی اور آئی ایم ایف مشن کے درمیان مذاکرات جاری ہیں جس میں عالمی مالیاتی فنڈ کے حکومت کی سولر پالیسی پر تحفظات دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق ذرائع نے کہا کہ پاور ڈویژن اور پیٹرولیم ڈویژن کے حکام الگ الگ بریفنگ دیں گے، سیکریٹری پاور ڈویژن، سیکریٹری پیٹرولیم ڈویژن اور سیکریٹری خزانہ بریفنگ میں موجود ہیں، پاور ڈویژن ڈسکوز کی کارکردگی، گردشی قرض اور نجکاری کے بارے میں بریفنگ دے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کو لائن لاسز کم کرنے، بجلی بل وصولی بڑھانے اور چوری روکنے بارے بتایا جائے گا، ڈسکوز میں بورڈز کی کارکردگی اور نئی انتظامیہ بارے بریفنگ دی جائے گی، تین ڈسکوز کی نجکاری بارے پیش رفت اور اثاثوں کے تعین بارے بتایا جائے گا آئی ایم ایف کے حکومت کی سولر پالیسی پر تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق ذرائع نے کہا کہ بجلی ٹیرف میں 8 سے 10 روپے فی یونٹ کمی کرنے کے منصوبے پر وفڈ حکام کو اعتماد میں لیا جائے گا، پیٹرولیم ڈویژن سے ملاقات میں پیٹرولیم اور گیس سیکٹر کی ڈی ریگولیشن پر غور کیا جائے گا، گیس سیکٹر کے 3 ہزار ارب روپے کے گردشی قرض کو ختم کرنے کے پلان پر غور کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت گردشی قرض کو ختم کرنے کیلئے مقامی اور درآمدی گیس کیلیے اوسط ٹیرف پر بریفنگ دے گی، حکومتی گیس کمپنیوں کو مزید تقسیم کرنے کے پلان پر غور کیا جائے گا،نجی شعبے کو گیس خرید و فروخت میں شریک کرنے بارے بریفنگ دی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف جائے گی کرنے کے جائے گا
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔