تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کی جانب سے جاری مہم کے بعد بیک چینل ہونے والے مذاکرات کو دھچکا لگا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بیک چینل مذاکرات بحال کرانے کی کوششوں میں مصروف تحریک انصاف کے رہنما پارٹی کے آفیشل ایکس (ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر جاری کیے جانے والے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے خلاف جارحانہ بیان پر مایوس نظر آتے ہیں۔باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ جارحانہ ٹوئٹ اور کچھ دیگر متنازع مواد کا تبادلہ کیا گیا ہے، یہ صورتحال تحریک انصاف کے لیے ایک دھچکے سے کم نہیں کیونکہ ایک طرف پارٹی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت کے لیے کوشاں ہے تو دوسری طرف فوج مخالف مہم چلا رہی ہے اور آرمی چیف پر ذاتی حملے کر رہی ہے۔ٹوئٹ پر ردعمل نے مبینہ طور پر پی ٹی آئی کے اُن رہنمائوں کو پریشان کردیا ہے جو جیل میں قید پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان کی رضامندی سے اب بھی غیر رسمی بات چیت کے ذریعے مفاہمت کے لیے اصرار کر رہے ہیں۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور اور پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اس تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ ہیں اور دونوں رہنما بیک چینل بات چیت میں مصروف رہے ہیں اور اب مبینہ طور پر ان طاقتوں کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کی نئی کوششیں کررہے ہیں۔تاہم، پارٹی میں یہ احساس تقویت حاصل کر رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرتے ہوئے بات چیت کے لیے کوششیں کرنے کا دوہرا معیار کارگر ثابت نہ ہوگا،  عمران خان کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی گئی کہ سوشل میڈیا پر اسٹیبلشمنٹ کے خلاف پارٹی کا لب و لہجہ نرم رکھا جائے تاہم انہوں نے ایسا نہیں کیا۔پی ٹی آئی کے کئی رہنما تصادم کی اس حکمت عملی سے متفق نہیں تاہم اس حکمت عملی میں تبدیلی لانے کے معاملے میں وہ بے بس نظر آتے ہیں۔نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ہم ان لوگوں پر مسلسل تنقید کرتے ہوئے کسی ریلیف کی امید نہیں رکھ سکتے۔فوج نے اپنی طرف سے کہا ہے کہ وہ سیاسی بات چیت میں شامل نہیں ہوگی اور اس بات پر مصر ہے کہ سیاسی جماعتوں کو اپنے مسائل آپس میں بات چیت سے حل کرنے چاہئیں۔آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے حال ہی میں عمران خان کی جانب سے خط موصول ہونے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایسا کوئی خط آیا بھی تو وہ اسے پڑھنے کے بجائے وزیراعظم کو بھیج دیں گے، ان کا یہ بیان اس وقت آیا جب عمران خان نے آرمی چیف کو اپنا تیسرا کھلا خط لکھا تھا۔حال ہی میں پی ٹی آئی کے رہنما علی امین گنڈا پور اور بیرسٹر گوہر نے جنرل عاصم منیر سے ملاقات کی جس سے ممکنہ سیاسی بات چیت کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں تاہم سرکاری اور سکیورٹی ذرائع کا اصرار تھا کہ ملاقات غیر طے شدہ تھی اور اس میں صرف سکیورٹی امور پر بات ہوئی۔عمران خان نے مبینہ طور پر اس ملاقات کو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت کا آغاز سمجھا،تاہم بیرسٹر گوہر محتاط رہے اور میڈیا کو بتایا کہ صرف سکیورٹی امور پر بات ہوئی۔کچھ میڈیا رپورٹس میں پی ٹی آئی کے نمائندوں اور اسٹیبلشمنٹ کی شخصیات کے درمیان فالو اپ میٹنگ کا اشارہ ملا تھا لیکن ایسی کسی بات چیت کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر

اسلام ٹائمز: یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔ خصوصی رپورٹ:

بحرینی حکام نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے تحت جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ ادارہ بحرین میں شیعہ آبادی کی سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔

یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ بحرین کے شیعہ معاشرے میں اس تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر، اسے نشانہ بنانا وسیع حلقوں کی نظر میں شیعہ برادری کے خلاف محدودیت پسند پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً گزشتہ برسوں میں اس طبقے کے خلاف کیے جانے والے متعدد اقدامات کے تناظر میں۔ یہ تنظیم، جو اس سے قبل بھی مختلف سخت اور غیر منصفانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکی ہے، 1972ء میں بحرین کے ممتاز دینی علماء کے ایک گروہ نے آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی قیادت میں قائم کی تھی۔ بعد ازاں یہ بحرین اور خطے کی سب سے بڑی ثقافتی اور سماجی تنظیموں میں شمار ہونے لگی۔

اس تنظیم کی تحلیل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بحرینی حکام نے پہلی مرتبہ فروری 1984ء میں اس تنظیم کو بند کیا تھا اور یہ پابندی 2001ء تک برقرار رہی۔ بعد ازاں قومی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم اور ملک میں نسبتاً سیاسی کشادگی کے دور میں اسے دوبارہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد جون 2016ء میں، شیعہ مذہبی شخصیات اور اداروں کے خلاف وسیع کارروائیوں کے دوران، حکام نے ایک مرتبہ پھر اس تنظیم کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 9 جون 2022ء کو تحلیل کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا اور تنظیم نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں، تاہم اس کی سرگرمیاں مسلسل مختلف پابندیوں کے حصار میں رہیں۔

ان پابندیوں میں قانونی و انتظامی کارروائیاں، تنظیم سے وابستہ ذمہ داران کے خلاف مقدمات، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تحلیل اور بعض سرگرمیوں کی جبری معطلی شامل تھیں۔ بالآخر تنظیم کے سربراہ اور تین دیگر کارکنان کو بھی اسی ادارے میں اپنی سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا، جسے اپوزیشن اور مخالف حلقوں کے ساتھ سکیورٹی طرزِ عمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے اجرا کے ساتھ اسلامی آگاہی سوسائٹی ایک بار پھر اپنی مسلسل بندشوں اور پابندیوں کی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے بحرین میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، حالانکہ حکومت خود کو رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا داعی قرار دیتی ہے۔

اس تنظیم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تاریخی ترتیب کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ تحلیل کو محض ایک انتظامی یا قانونی اختلاف قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 54 برس قبل اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ اپنی ثقافتی، سماجی اور دینی شناخت کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، تنظیم کو بند کرنے کے اقدامات کو ملک کے سب سے بڑے سماجی طبقے کے حوالے سے حکومتی تنگ نظری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پالیسیاں معاشرے کو قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو باہمی اعتماد کو کمزور کرتی ہیں اور بحرین کے وسیع ترین عوامی طبقے کو سیاسی و سماجی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کے رجحان کو مزید تقویت دیتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل