اسلام آباد:

سابق سینیٹر مشتاق احمد نے کہا ہے کہ شہباز حکومت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکا سے رہائی میں رکاوٹ ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق سینیٹر مشتاق احمد  نے کہا کہ عمران شفیق ایڈووکیٹ مظلوم عافیہ صدیقی کو انصاف دلوانے کی جدوجہد آگے بڑھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا قید میں 23واں رمضان اور 45ویں عید ہوگی ۔ ہم بار بار کہہ رہے ہیں شہباز حکومت ڈاکٹر عافیہ کی رہائی میں رکاوٹ ہے ۔ حکومت ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے غداری کر رہی ہے اور آج بالکل واضح ہو گیا ہے کہ حکومت نے کیس ختم کرنے کی درخواست دے دی ۔

یہ خبر بھی پڑھیں: عافیہ واپسی کیس؛ امریکا سے معاہدہ نہیں پھر بھی بندہ پکڑ کر حوالے کردیا؟ عدالت کا سوال

مشتاق احمد نے کہا کہ حکومت نے مؤقف اپنایا ہے کہ ہم نے ڈاکٹر عافیہ کی بہن کو امریکا بھیجا، ویزا دلوایا، اب اس کیس کو ختم کردیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ  یہ رویہ انتہائی شرمناک ہے۔ عدالت نے کہا کہ آپ نے شریف اللہ کو ہمت کرکے چند دنوں میں امریکا کے حوالے کردیا ۔ 23 سال سے ڈاکٹر عافیہ امریکی قید میں ہے، آپ ایک خط یا فون تک نہیں کرسکتے۔

سابق سینیٹر مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت شکاریوں والا کام کرتی ہے۔ امریکا جس کو کہتا ہے اس کو پکڑ لیتے ہیں۔ اس پر حکومت خوشیاں اور شادیانے بجارہی ہے ۔ اب اس پر کریڈٹ اور میڈل لینے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں اس عمل کی مذمت کرتا ہوں اور عوام سے کہتا ہوں کہ ڈاکٹر عافیہ کی پشت پر کھڑے ہوجائیں ۔ وکیل عمران شفیق آئندہ سماعت پر حکومت کی درخواست کا جواب دیں گے۔ ان شا اللہ ڈاکٹر عافیہ رہا ہوں گی۔ یہ اب ایک بین الاقوامی آواز بن چکی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سابق سینیٹر مشتاق احمد حکومت ڈاکٹر عافیہ ڈاکٹر عافیہ کی عافیہ صدیقی نے کہا کہ

پڑھیں:

دنیا کی مہنگی ترین طلاق، جنوبی کوریا کی اہم ترین کاروباری شخصیت کو 944 ارب وون سابق اہلیہ کو ادا کرنے کا حکم

دنیا کی مہنگی ترین طلاق، جنوبی کوریا کی اہم ترین کاروباری شخصیت کو 944 ارب وون سابق اہلیہ کو ادا کرنے کا حکم WhatsAppFacebookX 0 24 July, 2026 سب نیوز

سیوئل(آئی پی ایس )جنوبی کوریا کی سیئول ہائیکورٹ نے ملک کے بڑے صنعتی و کاروباری ادارے ایس کے گروپ کے چیئرمین چے تے وون کو اپنی سابقہ اہلیہ روہ سوہ یونگ کو 944 ارب جنوبی کوریائی وون (تقریبا 644 ملین امریکی ڈالر) ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس مقدمے کو صدی کی طلاق قرار دیا جا رہا ہے۔عدالتی فیصلہ ابھی حتمی نہیں اور اس کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے۔ یہ رقم اس سے پہلے سنائے گئے 1.38 کھرب وون کے فیصلے سے کم ہے، جو 2024 میں عدالت نے سابقہ اہلیہ کے حق میں دیا تھا۔فیصلے کے بعد چیئرمین چے تے وون کے وکلا نے ایک بیان میں کہا کہ وہ طلاق کی کارروائی کے باعث عوام میں پیدا ہونے والی تشویش پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔

وکلا کے مطابق چیئرمین چے تے وون اس بات پر گہرا افسوس کرتے ہیں کہ طلاق کی کارروائی نے بہت سے لوگوں کو تشویش میں مبتلا کیا۔ عدالتی فیصلے کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل اور ردعمل سامنے لایا جائے گا۔3 دہائیوں پر محیط شادی کیسے ٹوٹی؟چے تے وون اور روہ سوہ یونگ کی شادی 3 دہائیوں سے زیادہ عرصے تک قائم رہی۔ یہ رشتہ اس وقت شدید بحران کا شکار ہوا جب روہ سوہ یونگ کو معلوم ہوا کہ ان کے شوہر نے ایک دوسری خاتون سے تعلقات کے نتیجے میں ایک بچے کو جنم دیا ہے۔ اس انکشاف کے بعد دونوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے اور معاملہ عدالت تک پہنچ گیا۔

روہ سوہ یونگ جنوبی کوریا کے سابق صدر روہ تے وو کی صاحبزادی ہیں، جس کے باعث یہ مقدمہ ابتدا ہی سے ملکی میڈیا اور عوامی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ابتدائی فیصلے میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ سابق صدر روہ تے وو نے اپنے داماد چے تے وون کو 30 ارب وون فراہم کیے تھے، جنہیں خاندانی کاروبار کی ترقی میں استعمال کیا گیا۔ اسی بنیاد پر عدالت نے چے تے وون کو اپنی سابقہ اہلیہ کو 1.38 کھرب وون ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ مزید پڑھیں:چین نے ہمارے ساتھ سخت رویہ اپنایا ٹرمپ نے چینی درآمدات پر 155 فیصد ٹیرف عائد کردیا

بعد ازاں سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابق صدر کے مبینہ خفیہ فنڈ اور غیر ظاہر شدہ رقوم کو قانونی طور پر ازدواجی اثاثے قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسی قانونی جائزے کے بعد ہائی کورٹ نے نظرثانی کرتے ہوئے ادائیگی کی رقم کم کر کے 944 ارب وون مقرر کی۔

چے تے وون جنوبی کوریا کے دوسرے بڑے کاروباری گروپ ایس کے گروپ کے چیئرمین ہیں، جبکہ گروپ کی ذیلی کمپنی ایس کے ہائنکس دنیا کی نمایاں سیمی کنڈکٹر کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ایس کے ہائنکس مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے لیے استعمال ہونے والی جدید میموری چپس تیار کرتی ہے اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اینویڈیا سمیت عالمی اداروں کو سپلائی فراہم کرتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں نمایاں اضافہ ہوا اور اس نے جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ قائم کیے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرتاجکستان اور پاکستان کے درمیان ثقافتی و علمی تعاون کے فروغ پر اتفاق اگلی خبربنگلہ دیش کے صدر مستعفی، اسپیکر پارلیمنٹ قائم مقام ہونگے افغانستان میں طالبان رجیم کیخلاف مزاحمت مزید زور پکڑنے لگی، مخالف گروپوں کے حملوں میں تیز ی آگئی جتنی خطرناک سازشیں نوازشریف کیخلاف ہوئیں عوام کی سپورٹ نہ ہوتی تو ہمارا نام ختم ہوجانا تھا: مریم روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین، 6 دن میں پیٹرول 20 اور ڈیزل 55 روپے مہنگا وسیم خان باسکٹ بال کی عالمی تنظیم فیبا ایشیا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر بلاول برخودار! کشمیر کو کشمور، میرپور کو میرپور خاص نہ سمجھنا، نواز شریف بنگلہ دیش کے صدر مستعفی، اسپیکر پارلیمنٹ قائم مقام ہونگے TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • دنیا کی مہنگی ترین طلاق، جنوبی کوریا کی اہم ترین کاروباری شخصیت کو 944 ارب وون سابق اہلیہ کو ادا کرنے کا حکم
  • چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں کا امریکہ کی معروف یونیورسٹیوں کا دورہ
  • آئی جی پنجاب نے27افسران کے تقرروتبادلے کر دیے
  • ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان