شہید ڈاکٹر محمد علی نقویؒ ایک فکر، ایک مشن، اور ایک نظریہ تھے، علامہ راجہ ناصر عباس
اشاعت کی تاریخ: 7th, March 2025 GMT
ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی بنیاد رکھ کر نوجوانوں کو بیداری، خودسازی اور سماجی خدمت کا درس دیا۔ وہ نہ صرف ایک مثالی انقلابی تھے بلکہ اتحادِ امت کے سچے داعی بھی تھے۔ اسلام ٹائمز۔ سفیر انقلاب، بانی آئی ایس او پاکستان شہید ڈاکٹر محمد علی نقویؒ کی 30ویں برسی کے موقع پر سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اپنے سماجی رابطے کے ایکس اکاؤنٹ سے تعزیتی پیغام جاری کیا ہے جس کا متن پیش خدمت ہے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم، “وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ” “اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے ہاں رزق پا رہے ہیں۔” (آل عمران: 169)۔ آج 7 مارچ، شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی برسی کے موقع پر ہم اس عظیم رہنماء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی اسلام، حق و صداقت، اور مستضعفین کی خدمت کے لیے وقف کردی۔ شہید نقوی ایک فکر، ایک مشن، اور ایک نظریہ تھے، جو آج بھی نوجوانوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
انہوں نے امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی بنیاد رکھ کر نوجوانوں کو بیداری، خودسازی اور سماجی خدمت کا درس دیا۔ وہ نہ صرف ایک مثالی انقلابی تھے بلکہ اتحادِ امت کے سچے داعی بھی تھے۔ ان کی شہادت ہمارے لیے ایک پیغام ہے کہ ہم بھی اپنی زندگی کو دینِ حق کی خدمت، علم کی روشنی پھیلانے، اور مظلوموں کے دفاع میں وقف کریں۔ شہداء کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا، بلکہ وہ ایک ایسی روشنی ہے جو رہنمائی کرتی ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے چراغ راہ بنتی ہے۔ آج ہم عہد کرتے ہیں کہ شہید محمد علی نقوی کے مشن کو جاری رکھیں گے ان شااللہ وطن عزیز کی سربلندی اور اسلام کی حقیقی تعلیمات کو عام کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ اللّٰہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا کرے۔ الہی آمین! شہداء کی یاد ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محمد علی نقوی
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔