اپوزیشن جماعتوں کو دیوار سے نہیں لگایاجاسکتا، پی این پی کیخلاف کارروائی پر اپوزیشن اتحاد کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 7th, March 2025 GMT
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی، قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی عمر ایوب خان، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور دیگر نے بی این پی مینگل کے رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف مقدمات کے اندراج کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اپوزیشن کے بیانیے سے خوفزدہ ہے کہ جعلی حکومت روزبروز بدنام اور کمزورہورہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اخترمینگل کے بیٹے سمیت1800 افراد پر مقدمہ، بی این پی نے احتجاجاً شاہراہیں بند کردیں
ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں حکومت کو سیاسی جماعتوں کے خلاف غیر قانونی ہتھکنڈوں کا آئینہ دکھایا جائے گا۔حکمران سن لیں مقبول اپوزیشن جماعتوں کو دیوار سے نہیں لگایا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ جبرفسطائیت کا دور ختم ہوگا اور ملک میں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی قائم ہوگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اپوزیشن اتحاد اسدقیصر بی این پی مینگل عمرایوب محمود خان اچکزئی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اپوزیشن اتحاد بی این پی مینگل عمرایوب محمود خان اچکزئی
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔