بھارتی سپریم کورٹ نے یاسین ملک کے حوالے سے درخواست پر سماعت 4 اپریل تک ملتوی کر دی
اشاعت کی تاریخ: 8th, March 2025 GMT
محمد یاسین نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید ہیں، انہیں این آئی اے کی عدالت نے ایک جھوٹے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنا رکھی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی سپریم کورٹ نے سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی اس درخواست پر سماعت 4 اپریل تک ملتوی کر دی ہے جس میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یاسین ملک اور دیگر کے خلاف دو جعلی مقدمات کی سماعت مقبوضہ جموں و کشمیر سے دہلی منتقل کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق جسٹس ابھے ایس اوکا اور جسٹس اجل بھویان پر مشتمل سپریم کورٹ کے بنچ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کی عدم دستیابی کی وجہ سے سماعت 4 اپریل تک ملتوی کر دی۔ یاسین ملک نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پیش ہو کر سماعت رمضان المبارک کے اختتام تک ملتوی کرنے کی درخواست کی جسے بینچ نے قبول کر لیا۔ سی بی آئی 1989ء اور 1990ء میں سری نگر میں پیش آنے والے دو واقعات سے متعلق مقدمات کی منتقلی کی کوشش کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے قبل ازیں مقبوضہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل کو جموں کی خصوصی عدالت میں سماعت کے لیے ویڈیو کانفرنسنگ کی مناسب سہولیات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔ محمد یاسین نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید ہیں، انہیں این آئی اے کی عدالت نے ایک جھوٹے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنا رکھی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تک ملتوی کر سپریم کورٹ
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔