حکومت گردشی قرض کم کرنے کیلئے ایک کھرب 250 ارب کے پیکیج پر بات چیت کررہی ہے . اویس لغاری
اشاعت کی تاریخ: 8th, March 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔08 مارچ ۔2025 )وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری اور بینکنگ ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ حکومت توانائی کے شعبے کے بڑھتے ہوئے قرضوں کو کم کرنے کے لیے کمرشل بینکوں کے ساتھ ایک کھرب 250 روپے ( 4ارب 47 کروڑ ڈالر) کے قرضے پر بات چیت کر رہی ہے وزیر توانائی اویس لغاری نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ قرض کی ادائیگی 5 سے 7 سال کی مدت میں کی جائے گی، ٹرم شیٹ پر دستخط ہونا ابھی باقی ہیں زیادہ تر پاور کمپنیوں کی سب سے بڑی شیئر ہولڈر یا مالک حکومت کو مالی مشکلات کی وجہ سے قرضوں کا مسئلہ حل کرنے میں ایک چیلنج کا سامنا ہے، اس سے نمٹنے کے لیے حکومت نے آئی ایم ایف کی سفارش کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کیا لیکن اب بھی گردشی قرض کو ادا کرنے کی ضرورت ہے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نے کہا کہ قرضوں کو کے لیے
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔