سی ٹی ڈی کی پنجاب کے مختلف شہروں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ،10دہشت گرد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 8th, March 2025 GMT
کائونٹرٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے مختلف شہروں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 10 دہشتگرد گرفتار کر لئے ۔ترجمان سی ٹی ڈے کے مطابق دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر سی ٹی ڈی نے پنجاب کے مختلف شہروں میں 73 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، کارروائیوں کے دوران 10 دہشت گرد گرفتار ہو ئے۔سی ٹی ڈی ترجمان نے بتایا کہ کارروائیاں راولپنڈی ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، خوشاب ، بہاولنگر ، رحیم یار خان ، راجن پور ، بھکر اور جہلم میں کی گئیں ، خوشاب اور جہلم سے ٹی ٹی پی کے دو خطرناک دہشت گرد بارودی مواد سمیت گرفتار ہوئے۔حکام کے مطابق دہشتگردوں سے دھماکہ خیز مواد، ایک آئی ای ڈی بم، 19 ڈیٹونیٹرز ،35 فٹ حفاظتی فیوز تار، پمفلٹ، نقدی اور موبائل فون برآمد ہوئے، دہشت گردوں کی شناخت ریاض ،شفیق ، رشید ، جاوید، ظہیر ، ظہیر الدین، حفیظ، وزیر ، آصف اور وحید کے نام سے ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔