چیمپیئنز ٹرافی فائنل: کیا انڈیا کو دبئی میں ’ہوم ایڈوانٹیج‘ حاصل ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 8th, March 2025 GMT
سب کی نظریں چیمپیئنز ٹرافی کے انتہائی فائنل پر لگی ہوئی ہیں، کیونکہ شائقین کرکٹ اور ماہرین اس میچ کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔ اہم میچ سے پہلے، بھارتی ٹیم نے 3 دن کے آرام کے بعد جمعہ کی شام دبئی میں آئی سی سی اکیڈمی میں دوبارہ ٹریننگ شروع کی۔
یہ بھی پڑھیںچیمپیئنز ٹرافی فائنل:انڈیا کو بڑا دھچکا، اسٹار بلے باز ویرات کوہلی زخمی
بھارت کے کلیدی بلے باز، بشمول روہت شرما، شوبمن گل، اور ویرات کوہلی، وسیع بیٹنگ سیشنز میں مصروف رہے۔ اور اس دوران ہوا کے حالات میں اسپنرز اور پیسر دونوں کا سامنا کیا۔ اسی دوران ویرات کوہلی گھٹنے کے قریب گیند لگنے سے معمولی سے زخمی بھی ہوئے۔
علاوہ ازیں بھارتی تیم کے ہاردک پانڈیا، کے ایل راہول، اور رویندر جڈیجہ جیسے پاور ہٹرز باؤنڈری سے آگے طاقتور ہٹ کی مشق پر توجہ دی۔
بولنگ کے محاذ پر، ہندوستانی اسپنر ورون چکرورتی نے اپنا زیادہ تر وقت فیلڈنگ مشقوں کے لیے وقف کیا، میدان کے مختلف شعبوں میں اپنی پوزیشننگ اور چستی پر کام کیا۔
تربیتی سیشن سے پہلے، بھارت کے بیٹنگ کوچ سیتانشو کوٹک نے ان دعوؤں کو مسترد کردیا کہ ان کی ٹیم دبئی میں ’ہوم ایڈوانٹیج‘ رکھتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ یہاں فائدہ نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ جیت کا انحصار کارکردگی پر ہوتا ہے- اگر ہم اچھا کھیلتے ہیں تو جیت جاتے ہیں۔ اگر ہم نہیں کرتے تو ہم ہار جاتے ہیں۔ یہ کہنا کہ ہمارا فائدہ ہے بے بنیاد ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا چیمپیئنز ٹرافی دبئی کرکٹ نیوزی لینڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈیا چیمپیئنز ٹرافی کرکٹ نیوزی لینڈ
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔