UrduPoint:
2026-07-24@15:18:46 GMT

جرمنی میں حکومت سازی کی راہ ہموار

اشاعت کی تاریخ: 8th, March 2025 GMT

جرمنی میں حکومت سازی کی راہ ہموار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 08 مارچ 2025ء) جرمنی میں ہونے والے حالیہ پارلیمانی الیکشن میں فتح حاصل کرنے والے قدامت پسندوں کے رہنما فریڈرش میرس نے کہا ہے کہ انہوں نے سوشل ڈٰیموکریٹ پارٹی کے ساتھ مل کر کولیشن حکومت سازی کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔

تیئس فروری کو ہونے والے جرمن الیکشن میں کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) اور باویریا میں اس کی ہم خیال پارٹی کرسچن سوشل یونین (سی ایس یو) کا اتحاد سب سے بڑی سیاسی طاقت بن کر ابھرا تھا۔

ان انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی اور مہاجرین مخالف جماعت اے ایف ڈی (متبادل برائے جرمنی) ملک کی دوسری طاقتور ترین جماعت بن کر اُبھری ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کی کسی جماعت کو اتنے زیادہ ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔

(جاری ہے)

اس الیکشن میں چانسلر اولاف شولس کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی تیسرے نمبر پر آئی تھی۔

کہا جاتا ہے کہ اس بدترین شکست کے نتیجے میں اس پارٹی کے رہنما اور موجودہ چانسلر الاوف شولس کا سیاسی کیریئر ختم ہو گیا ہے۔ ’اے ایف ڈی کے ساتھ تعاون نہیں‘

یہ یاد رہے کہ سی ڈی یو/ سی ایس یو کے رہنما فریڈرش میرس نے کہا تھا کہ ان کی جماعت اے ایف ڈی کے ساتھ مل کر کام نہیں کرے گی۔ اسی طرح ملک کی دیگر جماعتیں بھی اے ایف ڈی کے ساتھ مل کر کام کرنے سے انکاری ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ جماعت اپوزیشن میں رہے گی۔

میرس نے ہفتے کے دن صحافیوں کو بتایا کہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) کے ساتھ حکومت سازی کے لیے ابتدائی مذاکرات اچھے رہے اور اب وہ اس پارٹی کے ساتھ اس تناظر میں باقاعدہ مذاکرتی عمل شروع کریں گے۔

میرس کی کوشش ہے کہ ایسٹر سے پہلے ہی حکومت سازی کا مرحلہ طے پا جائے۔ موجودہ صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ جرمنی کے نئے چانسلر فریڈرش میرس ہی ہوں گے۔

دفاعی بجٹ میں اضافہ

ان دونوں پارٹیوں نے ابتدائی مذاکرات میں جرمنی کا دفاعی بجٹ بڑھانے پر بھی اتفاق رائے کیا تھا۔ میرس کے بقول، ''ہم مستقبل میں بھی اپنے باہمی اتحاد کے وعدوں پر قائم رہنے والے امریکہ پر اعتماد کر رہے ہیں۔ لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارے ملک اور اتحاد کے دفاع کے لیے فنڈز کو اب نمایاں طور پر بڑھایا جانا چاہیے۔‘‘

میرس نے یہ بھی کہا کہ وہ یوکرین کے لیے تین بلین یورو کے امدادی پیکج کی فوری منظوری کے لیے زور دیں گے، جو کہ پارلیمان میں ہفتوں سے زیر بحث ہے۔

ع ب/ ش ر (روئٹرز، اے ایف پی، ڈی پی اے)

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے حکومت سازی اے ایف ڈی کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی

گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ وہ گورنر کے منصب پر رہتے ہوئے اپنی تمام ذمہ داریاں آئینِ پاکستان کے مطابق ادا کریں گے اور ان کی حیثیت کسی سیاسی جماعت کے نمائندے کی نہیں بلکہ وفاق کی آئینی ذمہ داریاں نبھانے والے عہدیدار کی ہوگی۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایڈیٹرز کلب کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں صحافت، تعلیم، گورننس اور سندھ کو درپیش مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

گورنر سندھ نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی قومی ذمہ داریاں ادا کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر وہ معاشرے کے تمام طبقات کے لیے یکساں طور پر دستیاب رہیں گے اور کسی بھی فیصلے میں سیاسی یا لسانی وابستگی کو بنیاد نہیں بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ لسانی تعصبات سے بالاتر ہو کر سندھ کے تمام شہریوں کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں اور بطور گورنر ان کا کردار صوبے کے مختلف طبقات کے درمیان ہم آہنگی، اعتماد اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔

صحافت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نہال ہاشمی نے کہا کہ سوشل میڈیا اور ریلز کلچر نے معلومات کی ترسیل کا انداز بدل دیا ہے، تاہم اس تبدیلی کے ساتھ پیشہ ورانہ صحافت کے بنیادی اصولوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنجیدہ صحافت کی بنیادی ذمہ داری تحقیق، حقائق اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنا ہے۔

انہوں نے میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی ادارتی پالیسیوں اور ایڈیٹوریل گائیڈ لائنز کو مزید مؤثر بنائیں تاکہ نئے آنے والے رپورٹرز کی بہتر تربیت کی جا سکے۔ ان کے بقول صحافیوں کو یہ سکھانا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ وہ متعلقہ، بامقصد اور مؤثر سوالات کریں، کیونکہ معیاری سوال ہی معیاری صحافت کی بنیاد بنتا ہے۔

گورنر سندھ نے تعلیم کے شعبے کو اپنی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ میں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات اور معیار کی بہتری کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو بہتر تعلیمی مواقع میسر آ سکیں۔

انہوں نے اپنی طرزِ حکمرانی پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ گورنر ہاؤس ہی میں رہائش پذیر ہیں، اس لیے غیر ضروری پروٹوکول کے قائل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سرکاری رہائش گاہ موجود ہے تو غیر ضروری نقل و حرکت اور بڑے پروٹوکول کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ سادگی، کفایت شعاری اور عوامی سہولت کو ترجیح دینا ہی بہتر طرزِ حکمرانی ہے۔

ملاقات کے دوران وفد کے ارکان نے بھی میڈیا کو درپیش چیلنجز، صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت، تعلیم اور گورننس سے متعلق مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ گورنر سندھ نے اس موقع پر صحافتی برادری کے ساتھ مسلسل رابطے اور تعمیری مکالمے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گورنر سندھ نہال ہاشمی

متعلقہ مضامین

  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند
  • ایرانی حملے میں 10 شدید زخمی فوجیوں کو جرمنی کے ہسپتال منتقل کیا گیا، نیویارک ٹائمز
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی