اوورسیز پاکستانیوں کے پاسپورٹ بلاک،وفاقی وزیرکا نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 9th, March 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اوورسیز پاکستانیوں کے پاسپورٹ بلاک کرنے کے معاملے پر وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے نوٹس لیتے ہوئے وزارت داخلہ کو باقاعدہ خط لکھ دیا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان بزنس فورم فرانس نے اس مسئلے کو وفاقی وزیر کے سامنے اٹھایا تھا۔چودھری سالک حسین کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی نازک مسئلہ ہے لہٰذا معاملے کی فوری انکوائری کی جائے، سمندر پار پاکستانی ہمارا سرمایہ ہیں انہیں ناجائز تنگ نہ کیا جائے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں سے زیادتی برداشت نہیں کی جائے گی، وزارت ایئرپورٹس پر سمندر پار پاکستانیوں کے لیے فسلیٹیشن ڈیسک قائم کرے گی۔پاکستان بزنس فورم فرانس کے سرپرست اعلیٰ ابراہیم ڈار، چیئرمین ظہور اقبال اور صدراسلم چوہدری کی طرف سے وفاقی وزیر کو خط بھیجا گا تھا۔خط کے متن کے مطابق ہزاروں اوورسیز پاکستانیوں کے پاسپورٹ بلاک کیے جانے کی خبریں مل رہی ہیں، پاکستانی ایئرپورٹس پر عملہ اوورسیز پاکستانیوں کو روک کر چار سے پانچ لاکھ روپے رشوت لے رہا ہے۔
خط کے مطابق دستاویزات کی انکوائری تک فلائٹ مس ہو جانے کا کہہ کر اوورسیز پاکستانیوں کو مجبور کیا جا رہا ہے، اوورسیز پاکستانیوں میں تشویش پائی جا رہی ہے، مسئلہ حل کر کے حکومت پر اعتماد بحال کیا جائے۔
کراچی:گھرکی چھت گرنے سے6 بچے جاں بحق ہوگئے
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: اوورسیز پاکستانیوں پاکستانیوں کے وفاقی وزیر
پڑھیں:
این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ
فائل فوٹو۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے تحریری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، ملازمین کے خلاف کسی بھی تادیبی کارروائی سے روکنے کا حکم امتناع برقرار ہے۔
عدالت عالیہ کے جسٹس اعظم خان نے متاثرہ افسران کی درخواست پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔ این سی سی آئی کے کانٹریکٹ ملازمین نے مستقلی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔
عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کی جانب سے جواب داخل کرانے کیلئے مزید مہلت کی استدعا کی گئی۔
حکم نامہ کے مطابق درخواست گزاروں کے وکلا نے فریقین کو جواب داخل کرانے کیلیے مزید مہلت دینے کی مخالفت کی، وکیل نے کہا 13 فروری کو پہلی سماعت کے بعد سے جواب جمع کرانے کے متعدد مواقع دیے گئے۔
تحریری حکم نامے کے مطابق فریقین کے وکلا نے ہر سماعت پر مختلف حیلے بہانوں سے التوا کی درخواست کی، وکیل نے کہا کہ تاخیری حربوں کے باعث درخواست گزاروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔
عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کو 30 جولائی سے قبل جواب جمع کرانے کی مہلت دی جاتی ہے، آئندہ سماعت تک جواب داخل نہ کرایا گیا تو دستیاب ریکارڈ پر کیس کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔
تحریری حکم نامے کے مطابق اتنے پڑھے لکھے اور تجربہ کار افراد کو کام سے روکنا زیادتی ہے، فریقین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ درخواست گزار افسران کے قانون کے مطابق کام میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 جولائی تک ملتوی کر دی۔