آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن نے اوگرا کے نئے قوانین کو مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, March 2025 GMT
آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن نے اوگرا کے نئے قوانین کو مسترد کردیا WhatsAppFacebookTwitter 0 9 March, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)کے نئے قوانین کو مسترد کردیا۔
رپورٹ کے مطابق آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین طارق وزیر علی نے چیئرمین اوگرا مسرور خان کو ایک خط دیا جس میں کہا گیا کہ ریفائنریز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سی)کے درمیان سیلز پرچیز ایگریمنٹ (ایس پی اے)میں اس شق کا شامل کیا جانا غیر منصفانہ ہے، یہ قانون پہلے سے مشکلات کا شکار او ایم سیز کے لیے مزید مالی بحران پیدا کر سکتا ہے۔
آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن نے کہا کہ اوگرا کو یہ قانون بنانے سے پہلے زمینی حقائق اور او ایم سیز کی مالی صورتحال کو مدنظر رکھنا چاہیے، ٹیک یا پے کا قانون صرف ریفائنریز اور بڑی آئل کمپنیوں کو فائدہ دے گا جبکہ چھوٹی کمپنیوں کو مزید مشکلات میں ڈال دے گا اور مجموعی طور پر تیل کی سپلائی چین متاثر ہوگی۔اس میں کہا گیا کہ ریفائنریاں اکثر قیمتوں میں اضافے کے دوران تیل کی فراہمی روک لیتی ہیں، جس کی وجہ سے او ایم سیز کو مہنگی پٹرولیم مصنوعات درآمد کرنی پڑتی ہیں، ملک میں غیر قانونی طریقے سے پیٹرولیم مصنوعات کی در آمد بھی مقامی مصنوعات کی طلب کو کم کر رہی ہے، جس سے او ایم سیز کو مزید مالی نقصان ہو رہا ہے۔
آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن نے کہا کہ اوگرا سے مطالبہ ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول چھوٹی اور درمیانی آئل کمپنیوں کے ساتھ مشاورت کی جائے، او ایم سیز کے دیرینہ مسائل جیسے تاخیر سے مصنوعات کی فراہمی اور امتیازی قیمتوں کے مسائل کو حل کیا جائے، مارکیٹ میں مسابقت کو فروغ دیا جائے تاکہ چھوٹی کمپنیاں بھی بہتر انداز میں کام کر سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن نے
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔