بیجنگ :بیجنگ میں جاری دو اجلاسوں کے دوران معاشی موضوع پر مبنی ایک عمومی پریس کانفرنس سائنسی و تکنیکی جدت طرازی کے موضوع پر پوچھے گئے سوالات کی وجہ سے چین کے میڈیا میں کافی وائرل ہوئی۔ اس دوران چائنا سیکیورٹیز ریگولیٹری کمیشن کے چیئرمین وو چھینگ نے ڈیپ سیک کے حوالے سے صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا کہ “معاشی موضوع پر پریس کانفرنس سائنس و ٹیکنالوجی کے موضوع کی پریس کانفرنس بنتی جا رہی ہے”۔ یہ جملہ ایک واضح حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ سائنسی اور تکنیکی جدت طرازی نہ صرف چین کی اقتصادی ترقی کے لئے ایک اہم انجن ہے، بلکہ ترقی کے مسائل کو حل کرنے کا ایک بہتر طریقہ بھی ہے۔

پیر کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق حالیہ برسوں کے دو اجلاسوں کا جائزہ لیتے ہوئے یہ معلوم کرنا مشکل نہیں ہے کہ دو اجلاسوں میں سائنس و ٹیکنالوجی کے موضوعات کا وزن بڑھتا جا رہا ہے۔ چاہے وہ وزیر اعظم کی جانب سے حکومتی ورک رپورٹ ہو، نمائندوں اور مندوبین کے انٹرویوز ہوں، اجلاسوں کے منتظمین کے زیر اہتمام پریس کانفرنسز اور نمائندوں اور مندوبین کا تبادلہ خیال ہو، سائنسی اور تکنیکی جدت طرازی ایک ہائی فریکوئنسی لفظ بن چکا ہے۔ گزشتہ سال کی حکومتی ورک رپورٹ میں تجویز کردہ “کم اونچائی والی معیشت” کے بعد ،موجودہ حکومتی ورک رپورٹ میں پہلی بار ” ایمبوڈیڈ انٹیلی جنس “، اے آئی موبائل فون اور کمپیوٹر” اور “ذہین روبوٹس” جیسے نئے الفاظ سامنے آئے۔اس کے علاوہ “ٹیلنٹ ٹریننگ کس طرح سائنسی اور تکنیکی جدت طرازی کی خدمت کر سکتی ہے”، “کیپٹل مارکیٹ سائنس اور ٹیکنالوجی انٹرپرائزز کے لئے حمایت میں کیسے اضافہ کر سکتی ہے”، اور ” مصنوعی ذہانت کے قانون کا جلد اجرا ” سمیت دیگر موضوعات بھی دو اجلاسوں کے نمائندوں اور مندوبین کی تجاویز میں سامنے آچکے ہیں۔چین کی معاشی ترقی میں سائنسی اور تکنیکی جدت طرازی کے کلیدی کردار کے حوالے سے چینیوں کی تفہیم گہری ہے۔ ”

ایک مسافربردار ہوائی جہاز کے بدلے 800 ملین شرٹس” کی تلخی سے لے کر دنیا میں جدت طرازی کے 44 شعبوں میں سے 37 میں چین کی صف اول کی پوزیشن کے حصول تک، تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جدت طرازی کے بیج صرف اس وقت ٹھوس پھل دے سکتے ہیں جب وہ حقیقی معیشت کی مٹی میں لگائے جائیں۔ 2024 میں چین کی 4.

48 بلین گھریلو آلات کی برآمدات چائنا کی بہترین صنعتی چین کی معاون صلاحیت کا مظہر ہیں۔ 1.1 ٹریلین یوآن مالیت کی چپس کا برآمدی حجم 4 لاکھ ہائی ٹیک انٹرپرائزز کی دانشمندی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صنعتی روبوٹس کی سالانہ پیداوار میں 14.2فیصد کے اضافے میں مرکزی اجزاء کی لوکلائزیشن میں پیش رفت پوشیدہ ہے، اور ڈیپ سیک کے 545 فیصد پرافٹ مارجن کے پیچھے کمپیوٹنگ پاور آپٹیمائزیشن کی جدید سوچ کار فرما ہے. جب روایتی معاشی ماڈل مطلوبہ نتائج نہ دے سکے تو سائنسی اور تکنیکی جدت طرازی ایسے مواقع پر صنعتی تبدیلی کی سنہری کلید بن جاتی ہے۔ اس صنعتی تبدیلی میں، مارکیٹ اور پالیسی کی گونج نے چین میں اعلی معیار کی ترقی کو تشکیل دیا ہے.دو اجلاسوں کی پریس کانفرنس میں ذکر کیے گئے ‘ وینچر کیپٹل گائیڈنس فنڈ کے قیام کو فروغ دینے’ اور ‘ٹیکنالوجی کی تبدیلی میں شرکت کے لیے سوشل کیپیٹل کی حوصلہ افزائی جیسے اقدامات براہ راست آج کے جدت طرازی ماحول کے طاقتور پہلو کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مارکیٹ پر مبنی آر اینڈ ڈی میکانزم نے ٹیکنالوجی مارکیٹ میں ایک حیرت انگیز کیمیائی رد عمل کو جنم دیا ہے:

چین میں سالانہ 12.8 ملین نئی توانائی کی گاڑیوں کی پیداوار الیکٹرک بیٹریوں کی ٹیکنالوجی میں پیش رفت کا نتیجہ ہے۔ چین کی فوٹووولٹک صنعت کا عالمی مارکیٹ میں 82فیصدکا تناسب نہ صرف صنعت کی شاندار تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے، بلکہ عظیم “نظام” کی طاقت کا مظہر بھی ہے بلیک میتھ: ووکانگ کی کامیابی، 10 ہزار کلومیٹر سے زائد فاصلے تک مار کرنے والے بین البراعظمی میزائل کی کامیاب لانچ،پھر چھٹی نسل کے جنگی طیارے کی لانچ، سیچھوان نامی بحری جنگی جہاز کی لانچ، اسپرنگ فیسٹیول گالا میں رقص کرنے والے روبوٹ ،نیژا 2 کا ریکارڈ باکس آفس بزنس اور حال ہی میں دنیا کو حیران کرنے والے ڈیپ سیک تک، صرف چند ماہ میں کسی ایک ملک میں اتنے بڑے پیمانے پر سائنسی اور تکنیکی پیش رفت کا سامنے آنا محض اتفاقاً نہیں ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین کا صنعتی ڈھانچہ، سائنسی تحقیقی ماحول، ٹیلنٹس کا ذخیرہ، بین الاقوامی حیثیت اور فوجی طاقت خاموشی سے “بنیادی” تبدیلیوں سے گزرتی ہوئی انتہائی مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔دو اجلاسوں کے ذریعے لوگ دیکھ سکتے ہیں کہ چین میں ایک نئی لہر سامنے آ رہی ہے اور سائنسی اور تکنیکی جدت طرازی چین کے ترقی کے نقشے کو نئی شکل دے رہی ہے۔ چین اپنے یقین کے ساتھ دنیا میں استحکام فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے، اور مشرق کی دانش مندی نے ایک بار پھر عملی طور پر یہ ظاہر کیا ہے کہ جدت طرازی پر پختہ عزم تاریخ کے اثاثوں کو ترقی کی محرک قوت میں تبدیل کر رہا ہے، اور روشنی کے اگلے مرحلے کی جانب انسانیت کی رہنمائی کر رہا ہے۔

Post Views: 1

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سائنسی اور تکنیکی جدت طرازی پریس کانفرنس جدت طرازی کے اجلاسوں کے دو اجلاسوں چین میں رہا ہے چین کی رہی ہے

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔

ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی