کراچی میں لگژری گاڑی نے کرتب کے دوران موٹر سائیکل سواروں کو روند ڈالا
اشاعت کی تاریخ: 11th, March 2025 GMT
ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑی کا ڈرائیور چلتی ٹریفک میں گاڑی کو چکر لگاتے ہوئے دکھائی دیتا ہے اور اچانک اس کی رفتار بڑھا کر ڈرفٹنگ شروع کر دیتا ہے۔ اس دوران گاڑی کی زد میں آ کر موٹر سائیکل سوار دونوں افراد زخمی ہو جاتے ہیں اور ان کی موٹر سائیکل گاڑی کے اگلے بمپر میں پھنس جاتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد کے علاقے طارق روڈ کے قریب ایک دل دہلا دینے والے حادثے میں لگژری گاڑی کے ڈرائیور نے کرتب کے دوران دو موٹر سائیکل سواروں کو روند ڈالا، جس کے نتیجے میں دونوں افراد زخمی ہوگئے۔ واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے، جس میں سفید رنگ کی گاڑی میں سوار دو افراد دکھائی دیتے ہیں۔ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑی کا ڈرائیور چلتی ٹریفک میں گاڑی کو چکر لگاتے ہوئے دکھائی دیتا ہے اور اچانک اس کی رفتار بڑھا کر ڈرفٹنگ شروع کر دیتا ہے۔
اس دوران گاڑی کی زد میں آ کر موٹر سائیکل سوار دونوں افراد زخمی ہو جاتے ہیں اور ان کی موٹر سائیکل گاڑی کے اگلے بمپر میں پھنس جاتی ہے۔ حادثے کے فوراً بعد گاڑی سوار دونوں افراد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم ابھی تک ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ اس واقعے نے شہریوں میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: موٹر سائیکل سوار دونوں افراد دیتا ہے
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔