سی ڈی اے کا اسلام آباد سے جنگلی شہتوت کے تمام درخت ہٹانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, March 2025 GMT
---فائل فوٹو
کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے جنگلی شہتوت کے تمام درخت ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سی ڈی اے نے وفاقی دارالحکومت میں شہتوت کے درختوں کو ہٹانے کی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پیپر شہتوت کی جگہ ہزاروں دیسی پودے لگائے جائیں گے۔
یہ فیصلہ سی ڈی اے ہیڈ کوارٹر میں چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس کے دوران کیا گیا۔
اجلاس میں ماحولیاتی ماہر رضوان محبوب، باکو ٹیم کے ماحولیاتی ماہرین اور سی ڈی اے کے انوائرنمنٹ وِنگ کے سینئر افسران نے شرکت کی۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ شہری ہر سال بڑے پیمانے پر پولن الرجی کا شکار ہو رہے ہیں، جنگلی شہتوت کے درخت اسلام آباد میں، خاص طور پر بہار کے موسم میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو متاثر کرتے ہیں۔
اجلاس کے دوران چیئرمین محمد علی رندھاوا نے شکر پڑیاں میں 10,000 سے زائد شہتوت کے درخت کاٹنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جگہ نئے ہزاروں دیسی درخت لگائے جائیں۔
پولن ایک باریک پاؤڈر ہے جو درختوں، پودوں اور گھاس کے پھولوں سے پیدا ہوتا ہے اور یہ جنگلی شہتوت کے تولیدی عمل کا ایک لازمی حصہ ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں پیپر شہتوت کے ہزاروں درخت موجود ہیں، اسلام آباد کے شہری پیپر ملبری کے درختوں کی تباہ کاریوں سے بخوبی واقف ہیں اسی لیے گزشتہ کئی دہائیوں سے ہر مرتبہ موسم بہار اسلام آباد کے شہریوں کے لیے ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہوتا۔
ان درختوں سے ہوا میں پھیلنے والے پولن کے ذرات، شدید قسم کی سانس کی الرجی اور بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔
اب اجلاس میں ہونے والے نئے فیصلے کے بعد پیپر شہتوت کے درختوں کو ہٹا کر تین نئے ماحول دوست پودے لگائے جائیں گے۔
اس اقدام سے اسلام آباد کے ماحول میں بہتری آئے گی اور اِن مہلک پودوں کے پولن کے ذرات کی وجہ سے فروری، مارچ کے دوران عوام الناس کو سانس اور دمے کی بیماریوں سے نجات ملے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد کے دوران سی ڈی اے
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔