ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے ہمیں ایک ہونا چاہیے: بیرسٹر گوہر علی
اشاعت کی تاریخ: 13th, March 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے ہمیں ایک ہونا چاہیے، امید ہے دہشتگردی کے واقعے کے عبد ساری جماعتیں اکٹھی ہوں گی۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ سانحہ جعفر ایکسپریس کی شدید مذمت کرتے ہیں، دہشت گردوں نے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، یہ اندوہناک واقعہ ہے، پاکستان کے عوام اس سے بہت متاثر ہوئے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم سبکدوش ہو گئے
انہوں نے کہا کہ بولان میں ہمارے سکیورٹی فورسز کے 4 جوان اور 20 مسافر شہید ہوئے جن کے اہلخانہ کے ساتھ دلی ہمدردی ہے، پاک فوج دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دے رہی ہے، سکیورٹی فورسز نے آپریشن کامیابی سے مکمل کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم پوائنٹ آف آرڈر مانگیں تو اکثر ملتا نہیں، پوائنٹ آف آرڈر مل جائے تو وقت پورا نہیں دیتے، پارلیمنٹ میں ہماری بات کو میوٹ نہ کیا جائے، آئین میں بھی لکھا ہے 130 دن سیشن ہو، آخری بار بھی 89 دن سیشن چلا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جب کوئی بل آئے اور کوئی قانون بنتا ہے تو اس پر بھی گفتگو ہونی چاہیے، صدر صاحب نے دوسری بات خطاب کیا ہے، رولز کی پاسداری ہونی چاہیے، ایوان کی پاسداری ہونی چاہیے، اس طرح کسی ایک کیلئے بھی حالات سازگار نہیں ہوں گے۔
ٹرین حملے کے پیچھے بھارت ہے : دفتر خارجہ
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ماضی کو بھول کر آگے کی طرف بڑھنا ہوگا، جس پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ میں نے تو ماضی کو بھولنے کی بہت کوشش کی لیکن آپ بھولنے نہیں دیتے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔