آپ لوگوں کو فیض کے ذریعے جیلوں میں ڈلوایا گیا، شیر افضل مروت
اشاعت کی تاریخ: 13th, March 2025 GMT
اس ایوان میں چند افراد کو ٹائم ملتا ہے باقی لوگ منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں، شیر افضل مروت - فوٹو: فائل
رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ آپ لوگوں کو فیض کے ذریعے جیلوں میں ڈلوایا گیا۔ ہماری حکومت میں آپ کو بند کیا، آپ کی حکومت میں ہمیں بند کر رہے ہیں۔
قومی اسمبلی اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ شیر افضل مروت نے یہ بھی کہا کہ میں نے آج سب لوگوں کی تقاریر سنی ہیں۔ اس ایوان میں چند افراد کو ٹائم ملتا ہے باقی لوگ منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی کراچی میں مہم میں نے چلائی تھی۔
پی ٹی آئی رہنما شیرافضل مروت نے پارٹی جلسوں میں بلائے بغیر شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
انکا کہنا تھا کہ "فاروق ستار صاحب سے صرف ایک گزارش ہے کہ وہ اپنے حلقے میں ہار گئے تھے۔" شیر افضل مروت کے فقرے پر ایوان میں قہقہے لگ گئے۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ ہماری حکومت میں آپ کو بند کیا اور آپ کی حکومت میں ہمیں بند کر رہے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کے پیچھے لگے رہتے ہیں۔
جعفر ایکسپریس دہشتگردی سے متعلق بات کرتے ہوئے شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو دیکھنا ہے تو صرف مذمتوں تک محدود نہ رہیں۔
بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان نے شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکال دیا۔
انہوں نے کہا کہ پچیس سال سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم نفسیاتی مریض بن چکی ہے۔
انکا کہنا تھا کہ میرے والد ان شرپسندوں کے ہاتھوں شہید ہوئے، میرے خاندان کے 142 لوگ شہید ہوچکے ہیں۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ یہ جنگ تب ہی جیتی جا سکتی ہے جب ملک میں رول آف لاء ہو۔ سیاستدان صرف اس بات پر خوش ہیں کہ وزیر بنا دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شیر افضل مروت نے کا کہنا تھا کہ حکومت میں نے کہا کہ
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔