روس یوکرین کے ساتھ 30 روزہ جنگ بندی کی حمایت کرتا ہے، ولادیمیر پیوٹن
اشاعت کی تاریخ: 13th, March 2025 GMT
روسی صدر کا کہنا تھا کہ ہم دشمنی ختم کرنے کی تجاویز سے اتفاق کرتے ہیں، ہم جنگ بندی کیلئے تیار ہیں لیکن اس میں بہت سی باریکیاں ہیں۔ صدر نے کہا کہ یوکرین جنگ بندی سے طویل مدتی امن قائم ہونا چاہئے۔ اسلام ٹائمز۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین جنگ بندی کیلئے امریکی تجویز پر ردعمل دے دیا۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ ہم دشمنی ختم کرنے کی تجاویز سے اتفاق کرتے ہیں، ہم جنگ بندی کیلئے تیار ہیں لیکن اس میں بہت سی باریکیاں ہیں۔ صدر پیوٹن نے کہا کہ یوکرین جنگ بندی سے طویل مدتی امن قائم ہونا چاہئے، روس یوکرین کے ساتھ 30 روزہ جنگ بندی کی حمایت کرتا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق پیوٹن نے یوکرین میں تنازع پر توجہ دینے پر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور کہا شاید مجھے امریکی صدر ٹرمپ کو فون کرنا پڑے گا۔ صدر پیوٹن کا کہنا تھا کہ ہمیں 30 روزہ جنگ بندی پر امریکا سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرسک کے علاقے کی صورتحال مکمل طور پر روس کے کنٹرول میں ہے، کرسک میں یوکرینی افواج کیلئے 2 آپشنز ہیں، ہتھیار ڈال دیں یا مر جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جنگ بندی کی نے کہا کہ پیوٹن نے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔