پشاور(نیوز ڈیسک) آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے کہا ہےکہ دارالعلوم حقانیہ اور بنوں خودکش حملہ آوروں کی شناخت ہوگئی ہے۔ پشاور میں نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ذوالفقار حمید نے کہا کہ نوشہرہ میں دارالعلوم حقانیہ اور بنوں دھماکوں کی تحقیقات جاری ہیں، دونوں دھماکوں کی سی سی ٹی وی ویڈیوز حاصل کرلی ہیں جب کہ خودکش حملہ آوروں کی اعضاء سے شناخت کرلی گئی ہے۔

آئی جی کے پی نے بتایا کہ بنوں واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کی ٹریکنگ بھی کرلی ہے، واقعہ میں غیر ملکی اسلحہ بھی استعمال کیا گیا ہے، اسلحہ کی ٹریکنگ کررہے ہیں کہ کس ملک سے اورکیسے آیا؟

انہوں نے مزید کہا کہ کرم میں حالات خراب کرنے والے 100 سے زیادہ ملزمان گرفتارہوئے، کرم واقعات میں اب دہشتگردی کا عنصر بھی شروع ہوا ہے، کرم کیلئے الگ حکمت عملی بنالی ہے، امید ہے اب کوئی واقعہ نہیں ہوگا۔ آئی جی خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ کچھ عرصے میں کرم میں پائیدار امن قائم کرنے میں کامیاب ہوں گے، سیف سٹی پراجیکٹ کی منظوری دے دی گئی ہے، چند ماہ میں سیف سٹی پراجیکٹ مکمل لیا جائے گا۔

سانحہ جعفر ایکسپریس: ڈی جی آئی ایس پی آر آج اہم پریس کانفرنس کریں گے

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹانک میں پولیس چیک پوسٹ پر خودکش حملہ، 12 فوجی، 2 پولیس اہلکار شہید، 12 دہشتگرد ہلاک کردیے گئے
  • ٹانک میں دہشت گردوں کا چیک پوسٹ پر حملہ، 12 خوارج ہلاک، 15 جوان شہید
  • اسلام آباد کچہری میں سموسے کیساتھ چٹنی نہ ملنے پر ہنگامہ
  • کراچی میں ہواؤں کی رفتار کم ہوگئی، درجہ حرارت بڑھنے کا امکان
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار