ہیما مالنی کی وائرل تصویر نے ریئلٹی شوز کی ’حقیقت‘‘ کا راز فاش کردیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, March 2025 GMT
ریئلٹی شوز میں کتنی حقیقت ہوتی ہے؟ یہ سوال ہمیشہ سے مقابلہ کرنے والوں، ججوں اور ناظرین کے درمیان بحث کا موضوع رہا ہے۔
انٹرنیٹ پر حال ہی میں ہیما مالنی کی ایک تصویر وائرل ہورہی ہے جس میں وہ ’انڈین آئیڈل‘ کی ایک قسط کا تفصیلی اسکرپٹ پڑھتی نظر آرہی ہیں۔
ہیما مالنی کی اس وائرل تصویر نے ناظرین کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ کیا واقعی یہ شو پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے؟
یہ تصویر ’’انڈین آئیڈل‘‘ کے حالیہ ہولی اسپیشل ایپی سوڈ سے لی گئی ہے، جس میں ہیما مالنی سفید ساڑھی میں ملبوس نظر آرہی ہیں۔ تصویر میں وہ کیمرے سے باہر کسی سے بات کرتے ہوئے مسکرا رہی ہیں، اور ان کے ہاتھ میں اسکرپٹ موجود ہے۔
تصویر میں اسکرپٹ کا ایک حصہ پڑھا جاسکتا ہے جس میں لکھا ہے: ’’ہیما جی ماتھرا اسٹائل ہولی کے بارے میں بتائیں گی: پریاگنشو، اسے لاٹھ مار ہولی کہتے ہیں… (اس کے بعد لاٹھ مار ہولی کی تاریخ بیان کی جائے گی)۔‘‘
یہ تصویر ایک کیپشن کے ساتھ شیئر کی گئی ہے، ’’ریئلٹی شوز۔ ہیما مالنی کو گزشتہ ہفتے کے ’انڈین آئیڈل‘ ایپی سوڈ کا تفصیلی اسکرپٹ پکڑے ہوئے دیکھ کر حیرت ہوئی۔ یہ ان لوگوں کےلیے ہے جو اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ شو ’ریئل‘ ہوتے ہیں۔‘‘
ایک صارف نے کہا، ’’یہ تو ہمیشہ سے اسکرپٹڈ ہیں! زیادہ تر ریئلٹی شوز… یہاں تک کہ ’بگ باس‘ بھی کسی حد تک۔‘‘ جب کہ ایک اور صارف نے کہا، ’’تمہیں لگتا ہے کہ ریئلٹی شوز کیسے بنتے ہیں؟ اس میں کوئی نئی بات نہیں۔ انہیں ہر چیز کی پلاننگ کرنی پڑتی ہے۔ وہ اضافی عناصر اور ایک گھنٹے کا شو کیسے بنایا جائے، یہ سب طے ہوتا ہے۔‘‘
ایک اور صارف نے کہا، ’’یہ واقعی شرمناک ہے۔‘‘ جب کہ ایک کمنٹ میں لکھا گیا، ’’میں نے ایک بار ایک ڈانس ریئلٹی شو کے بیک اسٹیج میں کام کیا تھا، اور ہر چیز، یہاں تک کہ بھارتی سنگھ کی مزاحیہ ٹائمنگ اور پنچ لائنز بھی، اور (اس وقت گووندا جج کے طور پر شو میں آئے تھے) تو یہاں تک کہ ان کا یہ کہنا کہ انہیں گانا بہت پسند آیا اور مقابلہ کرنے والے کی خواہش کہ گووندا اس پر ڈانس کریں، سب کچھ اسکرپٹڈ تھا۔‘‘
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ریئلٹی شوز ہیما مالنی ریئلٹی شو
پڑھیں:
پہلگام واقعہ، بھارت پاکستان مخالفت میں جعلی تصاویر پھیلانے لگا
بھارت کے پاکستان مخالف پروپیگنڈے میں اب اے آئی سے بھی مدد لی جارہی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی کے حملے میں سوشل میڈیا پر اے آئی سے بنی جعلی تصاویر وائرل ہورہی ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں پہلگام واقعے میں قتل ہونے والے افراد کی لاشیں دکھائی گئی ہیں جو کہ تمام تصاویر مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی ہیں اور اصلی نہیں ہیں۔ لیکن ان تصاویر کو اصل واقعے سے جوڑ کر پیش کیا جارہا ہے ۔فیکٹ چیک ٹیم نے ان تصاویر کو AI مواد کی شناخت کرنے والے ٹولز کے ذریعے چیک کیا۔ زیادہ تر ٹولز نے ننانوے فیصد یہ امکان ظاہر کیا کہ یہ تصاویر مصنوعی ہیں اور AI سے بنائی گئی ہیں۔دہشت گردی کے حملے پر میڈیا کی وسیع کوریج میں ہمیں اس قسم کی کوئی تصاویر نظر نہیں آئیں۔ تصاویر میں چہروں کی غیر واضح تفصیلات اور چمکدار ساخت بھی ان کے مصنوعی ہونے کی نشاندہی کرتی ہیں۔سوشل میڈیا پر حملے کی جگہ کی مزید کچھ تصاویر وائرل ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک پوسٹ کو اب تک 26,100 سے زائد مرتبہ دیکھا جاچکا ہے ۔ ہم نے ان تصاویر کو بھی چیک کیا لیکن یہ سب تصاویر بھی جعلی ثابت ہوئیں۔تمام دستیاب شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ پہلگام حملے سے متعلق وائرل ہونے والی یہ تصاویر اصلی نہیں بلکہ AI ٹیکنالوجی کے ذریعے بنائی گئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس میں اس قسم کی کوئی تصاویر دستیاب نہیں ہیں۔سوشل میڈیا پر بھارتی صارفین کی جانب سے پاکستان مخالف پروپیگنڈے میں اے آئی سے بنی ان جعلی تصاویر کا بھی استعمال کیا جارہا ہے۔