علاقے کے باشندوں نے اپنے دیگر مسائل بھی آغا سید روح اللہ کے سامنے رکھے، جن پر انہوں نے ہمدردانہ غور کرنے اور ضروری اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس نے ڈیلی ویجرز (عارضی ملازمین) کی مستقلی کا مسئلہ اپنے انتخابی منشور میں شامل کیا تھا اور آنے والے وقت میں اس حوالے سے خوشخبری کی امید ہے۔ ان خیالات کا اظہار جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینیئر لیڈر اور ممبر پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی نے ہفتے کو جنوبی کشمیر کے ترال علاقے کے دورے کے دوران ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیلی ویجرز کا مسئلہ نیشنل کانفرنس کے انتخابی منشور میں سرفہرست رہا ہے اور اب چونکہ اسمبلی کے جاری سیشن کے دوران وزیراعلٰی عمر عبداللہ نے اس حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، جو آئندہ چھ ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی، تو امید ہے کہ تمام ضروری مراحل مکمل کرکے ڈیلی ویجرز کے مسئلے کو حل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ عنقریب برسوں سے انتظار میں بیٹھے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ہزاروں افراد کو راحت مل سکے۔ اس سے قبل آغا سید روح اللہ نے خانقاہ فیض پناہ ترال کا دورہ کیا اور کہا کہ اس قدیم خانقاہ کی شان رفتہ بحال کرنے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے اور اس حوالے سے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جائے گی۔ اس موقع پر نیشنل کانفرنس کے ترال یونٹ سے وابستہ ڈاکٹر غلام نبی بٹ سمیت دیگر عہدیدار بھی موجود تھے۔ علاقے کے باشندوں نے اپنے دیگر مسائل بھی آغا سید روح اللہ کے سامنے رکھے، جن پر انہوں نے ہمدردانہ غور کرنے اور ضروری اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نیشنل کانفرنس کے آغا سید روح اللہ ڈیلی ویجرز انہوں نے

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • وزیراعظم کا لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دینے، کمانڈر نیشنل سٹرٹیجک کمانڈ مقرر کرنے کا اعلان
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے