روسی انفلوئنسر مرسڈیز سمیت قبر میں زندہ دفن؛ ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 16th, March 2025 GMT
روسی انفلوئنسر ایوگینی چیبوٹاریو کو مرسڈیز کار سمیت قبر میں دفن کردیا گیا، اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر فوراً وائرل ہوگئی۔
سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے کی دوڑ میں لوگ کچھ بھی کر گزرتے ہیں، لیکن روسی انفلوئنسر نے حال ہی میں ایک ایسا خطرناک اسٹنٹ کیا کہ دنیا بھر کے صارفین دنگ رہ گئے ہیں۔
ایوگینی چیبوٹاریو نے اپنی مرسڈیز گاڑی سمیت خود کو قبر میں دفن کروا دیا۔ ان کی اس حرکت کی ویڈیو نے اب تک 100 ملین سے زائد ویوز حاصل کرلیے ہیں۔
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایوگینی ایک کھودی ہوئی قبر میں اپنی مرسڈیز گاڑی لے کر داخل ہوتا ہے۔ وہ باہر آنے کے بجائے گاڑی میں بیٹھا رہتا ہے، جب کہ اس کے ساتھی گاڑی پر مٹی ڈالنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایک جے سی بی ایکسکیویٹر کی مدد سے گاڑی کو مکمل طور پر زمین کے نیچے دفن کر دیا جاتا ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس سارے منظر کے دوران ایوگینی بالکل پرسکون رہتا ہے، اور کیمرے کی طرف دیکھ کر مسکراتا ہے۔ وہ ایک بوتل بھی دکھاتا ہے، شاید یہ تجربے کے دوران اپنا وقت گزارنے کے لیے ساتھ لایا تھا۔
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر شدید غم و غصہ اور حیرت کا طوفان برپا کرنے کےلیے کافی تھی۔ بہت سے صارفین نے اسے انتہائی بے وقوفانہ اور خطرناک حرکت قرار دیا۔ کچھ نے یہ سوال اٹھایا کہ آخر وہ زمین کے نیچے کیسے سانس لے رہا تھا؟ جب کہ کئی لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ اسٹنٹ کسی بھی لمحے جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا۔
https://www.instagram.com/chebotarev_evgeny/
ایوگینی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اس طرح کے خطرناک اسٹنٹس کی بھرمار ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر شہرت پانے کےلیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ تاہم، اس تازہ ترین حرکت نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا محض شہرت کی خاطر اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنا عقلمندی ہے؟
یہ واقعہ سوشل میڈیا کے موجودہ رجحانات پر بھی سوال اٹھاتا ہے، جہاں لوگ فالوورز اور ویوز کے لیے انتہائی حدوں تک جانے کو تیار ہیں۔ اس طرح کے واقعات نہ صرف خود انفلوئنسرز کے لیے بلکہ ان کے مداحوں، خاص طور پر نوجوان نسل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں، جو ایسے رویوں کو دیکھ کر متاثر ہو جاتے ہیں۔
اب تک ایوگینی چیبوٹاریو کے خلاف کسی قانونی کارروائی کی اطلاعات نہیں آئیں، لیکن اس واقعے نے سوشل میڈیا کے منفی اثرات پر ضرور غور و فکر کی دعوت دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر کے لیے
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔