وزیراعظم سے امریکی ملٹی نیشنل آئی ٹی کمپنی کے وفد کی ملاقات، مزید سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 17th, March 2025 GMT
وزیراعظم سے امریکی ملٹی نیشنل آئی ٹی کمپنی کے وفد کی ملاقات، مزید سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار WhatsAppFacebookTwitter 0 17 March, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف سے معروف امریکی ملٹی نیشنل آئی ٹی کمپنی Afiniti کے سی ای او جیرومی کیپیلس کی سربراہی میں 4 رکنی وفد نے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے Afiniti کی پاکستان کے آئی ٹی شعبے میں مزید سرمایہ کاری میں دلچسپی کا خیرمقدم کیا۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے آئی ٹی شعبے کی باصلاحیت افرادی قوت عالمی مارکیٹ میں مسابقتی بنیادوں پر کام کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے Afiniti کو تجویز دی کہ پاکستان میں قومی اور بین الاقوامی صارفین کے لیے عالمی معیار کا کال سینٹر قائم کیا جائے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ وہ خود ملک کے نوجوانوں کو آئی ٹی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کی تربیت کے پروگرامز کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ انہیں بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی شعبے میں 25 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف حاصل کرنے کے لیے حکومت آئی ٹی کمپنیوں کو تمام ممکنہ سہولیات فراہم کر رہی ہے۔
Afiniti کے سی ای او جیرومی کیپیلس نے پاکستانی آئی ٹی ماہرین کی صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ خدمات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے بہترین ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت Afiniti میں 1000 سے زائد قابل اور باصلاحیت پاکستانی ماہرین کام کر رہے ہیں، اور پاکستانی نوجوانوں میں بے پناہ استعداد موجود ہے۔
ملاقات میں وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری ا ئی ٹی
پڑھیں:
ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
تہران / منامہ: ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کے خلاف جاری جوابی اقدامات کا حصہ ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ حملے کا ہدف امریکی کمپنی ایمیزون کی وہ ڈیٹا تنصیب تھی جو ان کے بقول امریکی فوج کو معلوماتی معاونت فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہی تھی۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد یا مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی کمپنی ایمیزون، بحرین کی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے یا اس کے ممکنہ نقصانات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام فوجی اڈے یا تنصیبات جو امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے، ایران کی نظر میں جوابی حملوں کے لیے جائز ہدف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی تنصیب کو ایران نے براہِ راست اپنی فوجی کارروائی کا ہدف قرار دیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔