قومی سلامتی کمیٹی کاان کیمرہ اہم اجلاس آج ہوگا،بڑے بڑے فیصلے متوقع
اشاعت کی تاریخ: 18th, March 2025 GMT
قومی سلامتی کمیٹی کااہم اجلاس آج ہوگا۔ دہشتگردی کے خلاف ملک کے تمام بڑے بیٹھک میں شامل ، بڑے بڑے فیصلوں کا امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس صبح گیارہ بجے ہوگا، اجلاس قومی اسمبلی ہال میں اسپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت ہوگا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف ، عسکری قیادت اور سیکورٹی ایجنسیز کے حکام شریک ہوں گے۔ اجلاس میں ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا، عسکری قیادت پارلیمانی کمیٹی کو موجوہ سیکیورٹی صورتحال سے آگاہ کرے گی۔ اجلاس میں فاقی وزرا، سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنما اوران کے نامزد نمائندےشرکت کریں گے جبکہ چاروں صوبوں کے گورنر اور وزرائے اعلیٰ، آزادکشمیرکےصدراوروزیراعظم، گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ اور دیگر حکام بھی شریک ہوں گے۔ ترجمان قومی اسمبلی نےکہاہے ان کیمرہ اجلاس کی وجہ سے پارلیمنٹ میں آج قائمہ کمیٹیوں اور ذیلی کمیٹیوں کا کوئی اجلاس نہیں ہوگا۔ اجلاس کیلئے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں اور قانون نافذ کرنے والےاداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ترجمان قومی اسمبلی نے بتایا کہ میڈیا کو پارلیمنٹ کی عمارت تک رسائی نہیں دی جائے گی اور خصوصی دعوت نامے کے بغیر کسی کو بھی پارلیمنٹ کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی تاہم غیرمعمولی اجلاس کی وجہ سے پارلیمنٹ کا صرف متعلقہ اسٹاف ہی موجود ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔