فتنہ خوارج اور بھارت کا اسلام دشمن گٹھ جوڑ
اشاعت کی تاریخ: 18th, March 2025 GMT
پاکستان پر فتنہ خوارج کی یلغار تیز ہوتی جارہی ہے۔ گزشتہ دنوں مساجد پر دہشت گردوں حملوں میں جس طرح علماء کرام کو ہدف بنایا گیا اس سے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت عیاں ہو گئی کہ خارجیوں کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ مساجد اللہ کے گھر ہیں ۔ اللہ کے گھر میں روزہ دار نمازیوں پر خودکش حملے کرنے والے دراصل اسلام کے سب سے بڑے دشمن اور مسلمانوں کے خلاف سرگرم قوتوں کے آلہ کار ہیں۔ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت سے فتنہ خوارج کی فکری وابستگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مساجد پر ان کے حملوں پر بھارتی میڈیا میں جشن منایا جاتا ہے۔ بلوچستان میں مسجد میں شہید ہونے والی مفتی شاہ میرکے متعلق بھارتی میڈیا پہ یہ جعلی پرپیگنڈہ کیا جاتا رہا کہ وہ ہندوستانی جاسوس کل بھوشن کی گرفتاری میں ملوث تھے۔ فتنہ خوارج کی مسلم دشمن مجرمانہ سرگرمیوں کو بھارتی ایجنسی را پاکستان دشمن پروپیگنڈے کے لئے استعمال کر رہی ہے۔ خیبر پختونخوا میں گزشتہ دو ہفتوں میں تین جید علماء کی شہادت میں فتنہ خوارج کا ہاتھ شامل ہے۔ ان وارداتوں کے ذریعے پاکستان میں بدامنی اور خانہ جنگی جیسی فضا پیدا کر کے بھارت کے دیرینہ عزائم کی تکمیل کی جا رہی ہے۔ اسلام بالخصوص پاکستان کے خلاف پرتشدد رویہ اور دہشت گردی بھارت کی سوچی سمجھی پالیسی ہے۔بی جے پی کی شدت پسندانہ اقلیت دشمن پالیسیاں اور پڑوسی ممالک کے خلاف سرحدی تنازعات میں جارحیت کا رجحان دراصل بھارت اور اسرائیل کے درمیان بھی ایک ناقابل تردید قدر مشترک قرار دی جا سکتی ہے۔ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ مسلم دشمنی کی وجہ سے دونوں ممالک کے مابین اشتراک عمل گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاست پوری تندہی سے اسرائیل کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ تاریخی حقائق کے برعکس مقبوضہ کشمیر میں بھارت مسلم کشمیریوں کی آبادی کا تناسب بدل کر ہندو اقلیت کو اکثریت میں بدلنا چاہتا ہے ۔گزشتہ 10برس میں مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں مختلف ریاستی ہتھکنڈوں سے مسلم آبادی کو کونے سے لگا رکھا ہے۔ جس طرح صیہونی ریاست نے فلسطینیوں کو ان کی مادر ارضی سے محروم کرنے کے لیے ناجائز بستیاں بنا کر یہودیوں کی آباد کاری کی مہم شروع کی بالکل اسی طرز پر مودی سرکار مقبوضہ کشمیر میں غیر کشمیری ہندوئوں کی آباد کاری کے منصوبوں کو پروان چڑھا رہی ہے ۔ بی جے پی کی حکومت نے نیتن یاہو حکومت کے تمام فلسطین دشمن اقدامات کی کھل کر حمایت کی ہے۔ غزہ جنگ کے ہر مرحلے میں مودی سرکار نے اسرائیل کے وحشیانہ اقدامات کی تائید کی ہے۔ مظلوم اور نہتے عوام کی بے رحمانہ نسل کشی کے باوجود مسلم دشمنی کی آگ میں جھلسنے والے بھارتی میڈیا پر اسرائیلی حکومت پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے جاتے رہے۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ غزہ جنگ میں غیر انسانی جارحیت کے مظاہرے نے اسرائیل کو عالمی تنہائی کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ اپنے سیاہ کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کے لئے اسرائیل بھی بھارت کی مکارانہ سفارت کاری اور سافٹ پاور کی موثر ترویج کی حکمت عملی اپنانا چاہتا ہے۔ معروف اسرائیلی جرائد ٹائمز آف اسرائیل اور ہیریٹز گزشتہ چند ماہ کے دوران اس موضوع پر تجزیے شائع کر چکے ہیں۔ اسرائیل کا حمایتی مغربی میڈیا بھی یہ پہلو اجاگر کر چکا ہے کہ بھارت اپنے سنگین ریاستی جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے نہایت عیاری کے ساتھ سافٹ پاور کا استعمال کر رہا ہے ۔
امریکی جریدے نیویارک ٹائمز کے مطابق بھارتی ریاست مقبوضہ کشمیر میں جبر ،تشدد اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں سے بین الاقوامی برادری کی توجہ ہٹانے کے لیے بالی وڈ کی فلموں کے ذریعے نہایت موثر پروپیگنڈا کر رہا ہے ۔انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ہیومن رائٹس واچ ،ایمنسٹی انٹرنیشنل اور معروف تھنک ٹینک SIPRI کی تحقیقاتی رپورٹس نے بھی اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ اقلیتوں خصوصاً مسلم برادری کے خلاف تشدد ،مقبوضہ کشمیر میں ناجائز تسلط اور طبقاتی نفرت کا شکار دلت برادری کی حالت زار سے مسخ ہونے والے ریاستی تشخص کو بھارت پروپیگنڈے ،سفارت کاری ،فلم انڈسٹری اور معاشی مفادات کی چمک سے پرکشش بنانے میں مہارت رکھتا ہے ۔مظلوم کشمیری عوام اور بھارتی مسلمانوں کا قاتل بھارت پروپیگنڈے کی قوت سے انسانی حقوق کا علم بردار بن جاتا ہے۔ایک جانب بھارتی مسلم برادری اسلاموفوبیا کی لہر کی زد میں ہے اور مساجد مسمار کر کے مندر تعمیر کرنے کی مہم بی جے پی کی سرپرستی میں زور پکڑ رہی ہے جبکہ دوسری جانب بھارتی فلمیں مذہبی رواداری کا پرچار کرکے ریاستی جرائم پر پردہ ڈال رہی ہیں۔ امریکہ ، کینیڈا سمیت مغربی دنیا میں سکھوں کے خلاف ناکام آپریشن کا بھانڈا پھوٹنے کے بعد اب بھارتی ایجنسیاں فلموں ، ٹی وی سیریلز اور جعلی خبروں کے ذریعے اپنی ساکھ بہتر کرنے میں مصروف ہیں۔ تسلسل سے یہ جھوٹا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ بھارت پاکستان میں اپنے مطلوبہ افراد کو قتل کروا رہا ہے۔ مفتی شاہ میر کی خوارج کے ہاتھوں شہادت کو اپنی کامیابی بنا نے کے لئے بھارت نے بہت بھونڈا طریقہ اختیار کیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ بھارت کا جاسوس بندر کل بھوشن آج بھی پاکستان کی تحویل میں ہے جبکہ کینیڈا اور امریکہ میں بھارتی ایجنسیوں کی ناکامیوں کی داستانیں زبان زد خاص و عام ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: فتنہ خوارج کے خلاف رہی ہے رہا ہے
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب