قومی سلامتی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کی عدم شرکت، عمران خان کا اہم بیان آگیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, March 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف میری اجازت کے بغیر قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہیں کر سکتی تھی۔
بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے بھائی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عمران خان کو مختلف طریقوں سے تنگ کیا جارہا ہے۔
تحریک انصاف میری اجازت کے بغیر APC میں شرکت نہیں کر سکتی تھی ۔
انہوں نے کہاکہ عمران خان کا مؤقف ہے کہ ان کی بچوں سے بات نہیں کروائی جارہی، ذاتی معالج کو بھی رسائی نہیں، اس کے علاوہ وکلا کو بھی یہاں نہیں آنے دیا جارہا۔
علیمہ خان نے کہاکہ عمران خان کی 6 مہینے میں 4 بار بچوں سے بات کروائی گئی، حالانکہ عدالتی احکامات کے مطابق ہفتے میں ایک بار بات کرانا لازمی ہے۔
انہوں نے کہاکہ عمران خان تک ان کی دانتوں کی ڈاکٹر کو بھی رسائی نہیں دی جارہی۔ انہیں تنگ کرنے کا ہر حربہ اختیار کیا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس اس وقت جاری ہے، جس میں وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف سمیت اہم سیاسی و عسکری قیادت شریک ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے اس اہم اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے، تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اپنے صوبے کی نمائندگی کررہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:محکمہ صحت پنجاب کا ملازمین کو عید سے قبل تنخواہ دینے کا اعلان
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کہ عمران خان تحریک انصاف
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔