جنوبی و شمالی وزیرستان اور ٹانک میں کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ، سکیورٹی فورسز کے دستے طلب
اشاعت کی تاریخ: 19th, March 2025 GMT
وانا(اوصاف نیوز)خیبر پختونخوا کے اضلاع اپر جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان اور ٹانک میں کل کرفیو نافذ کرنےکا اعلان کیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک میں نواز کوٹ پل سے ڈنگن تک کل کرفیو ہوگا۔
ڈنکن سے میلوگئی پل تک بھی صبح 6 سے شام 6 بجے تک کرفیو رہےگا۔ ڈپٹی کمشنر ٹانک کے مطابق ٹانک میں کوڑ قلعہ سے منزئی تک اور کڑی وام سے جنڈولہ تک کرفیو نافذ رہےگا، کوڑ قلعہ سے گومل اور گرداوائی وانا کا روڈ کھلا رہےگا۔
ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان اپر کے مطابق جنوبی وزیرستان اپر میں صبح 6 سے شام 6 بجے تک عزیز آباد چوک سے سرویکئی اور جنڈولہ سڑک بند رہے گی۔ سکیورٹی فورسز کے دستے طلب کرلئے
ڈپٹی کمشنر کے اعلامیے کے مطابق اسپن مسجد، آسمان منزا اور لدھا سے مکین تک کی سڑک بھی بند رہے گی، بی بی راغزئی سے کوٹکئی اور جنڈولہ تک کی سڑک بھی کل بند رہے گی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سڑکیں سکیورٹی خدشات کی وجہ سے کل بند رہیں گی، مسافروں سے درخواست ہے کہ وہ متبادل راستے اختیار کریں۔
بنگلادیشی کرکٹرز کی پی ایس ایل میں شرکت مشکوک
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: شمالی وزیرستان ڈپٹی کمشنر کے مطابق
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔